غزہ کی ناگفتہ بہ صورتحال، جلد از جلد جنگ بندی کا مطالبہ؛ انٹونیو گوترش
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جارح صیہونی حکومت کی بمباری اور جرائم کے سبب غزہ کی ناگفتہ بہ صورت حال کے پیش نظر جلد سے جلد جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی ، قیدیوں کی بلاقید و شرط رہائی اور پورے غزہ پٹی میں بلاکسی رکاوٹ کے انساندوستانہ امداد تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارس ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی بڑے پیمانے پر بمباری اور زمینی کارروائيوں کے نتیجے میں صرف گزشتہ دو دنوں میں رفح سے ایک لاکھ سے زيادہ فلسطینی بے گھر اور دربدر ہوئے ہیں جن میں سے اکثر نہایت کم وسائل کے ساتھ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہيں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے تیئس مارچ کو میڈيکل ٹیم اور اس کے ایمرجنسی عملے کے کاررواں پر صیہونی حکومت کی فوج کے حملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر دوہزآر تیئس سے اب تک کم سے کم چار سو آٹھ امدادی کارکنوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے جن میں سے دوسو اسی کا تعلق براہ راست اقوام متحدہ سے تھا۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق فنڈ یونیسیف نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کی وعدہ خلافی اور غزہ پٹی میں شدید بمباری اور زمینی کارروائیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے نتیجے میں کم از کم تین سو بائيس بچے شہید اور چھے سو نو بچے زخمی ہوئے ہیں۔یعنی گذشتہ صرف دس دنوں کے دوران روزانہ سو سے زائد بچے شہید یا معذور ہو ئے ہیں۔
یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ ان میں سے زیادہ تر بچے بے گھر ہو گئے تھے اور انہوں نے عارضی خیموں یا کھنڈرات میں پناہ لے رکھی تھی۔ یونیسف کے مطابق ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو جنوبی غزہ پٹی میں خان یونس میں ناصر ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ پر حملے میں شہید یا زخمی ہوئے تھے۔
یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی نے ایک حفاظتی جال فراہم کیا تھا جس کی غزہ کے بچوں کو سخت ضرورت تھی تاہم اب ایک بار پھر وہ تباہ کن تشدد اور محرومی کے بھنور میں ڈوب گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ جارح صیہونی حکومت نے اٹھارہ مارچ سے ایک بار پھر غزہ پر وحشیانہ بمباری اور زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہيں۔