جنوبی کوریا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں فلسطین کے حق میں عظیم الشان مظاہرے
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سئول میں عوام نے فلسطینی عوام کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور غزہ کے لئے فوری امداد کی ترسیل کا مطالبہ کیا۔
سحرنیوز/دنیا: الجزیرہ کی رپورٹ کےمطابق ایسے میں جبکہ غزہ میں جارح صیہونی حکومت کے توسط سے رفح گذرگاہ بند کئے جانے اور انسانی امداد کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹ کے سبب انسانی المیہ رونما ہو رہا ہے، جنوبی کوریا کے ہزاروں افراد نے اس ملک کے دارالحکومت سئول میں اپنے ہاتھوں میں بینرز اٹھاکر فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور غزہ کے لئے فوری امداد ارسال کئے جانے اور اس علاقے کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا-
دوسری جانب مراکش کے بھی عوام نے اس ملک کی پارلمینٹ کے سامنے جمع ہوکر صیہونی حکومت کے پرچم کو آگ لگائی اور تل ابیب کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ساتھ ہی انہوں نے فلسطین اور غزہ کے باشندوں کی حمایت کا اعلان کیا- مظاہرین نے جارح صیہونی حکومت کے جرائم اور نسل کشی کی مذمت کی-یہ مظاہرے ایسی حالت میں ہو رہے ہيں کہ غزہ کے انفارمیشن سینٹر نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہےکہ صیہونی حکومت نے غزہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک ایک ہزار ایک سو ترانوے مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق دس اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد سے اب تک تیئیس ہزار انیس ٹرک امدادی سامان لے کر غزہ میں داخل ہوئے ہيں، یہ ایسے میں ہے کہ جب ٹرمپ امن منصوبے کے تحت غزہ میں چون ہزار امدای ٹرکوں کا داخل ہونا طے پایا تھا-اسی طرح اس رپورٹ میں کہا گيا ہےکہ شدید بارشوں کے سبب خیموں میں پانی بھرجانے کی وجہ سے ایک لاکھ ستائیس ہزار خیمے فلسطینیوں کے رہنے کے قابل نہیں ہیں ساتھ ہی جارح صیہونی حکومت کی بمباری میں تباہ ہونے والی پچاس سے زیادہ عمارتوں کے گرنے کے باعث دسیوں فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہيں-
بہت سے فلسطینی ان تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیںاس کے علاوہ گذشتہ نوے روز کے دوران صیہونی حکومت کے ہاتھوں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں چار سو چوراسی فلسطینی شہری شہیدہوئے ہيں-اس ادارے نے رپورٹ کے آخر میں گذرگاہیں بند ہونے اور خیموں کے داخلے ہونے کی اجازت نہ دینے کے سبب غزہ کی صورتحال کے مزید ابتر ہونے کی بابت خبردار کیا ہے اور ثالث اور ضامن ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہے وہ غزہ کو اس صورتحال سے نکالنے کے لئے صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالے-