امریکیوں کی اکثریت ایران جنگ کی مخالف، نئی سروے رپورٹ
امریکہ میں کیے گئے ایک نئے قومی سروے کے مطابق اکثر امریکی شہری ایران جنگ کے مخالف اور اس تنازع کو جلد از جلد ختم کیے جانے کے خواہاں ہیں۔
سحرنیوز/دنیا: میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں ہونے والے تازہ سروے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر بھی عوامی حمایت میں کمی دیکھی گئی اور شہریوں نے جنگ کے مقابلے میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور سفارتی حل کو زیادہ اہم قرار دیا۔
امریکہ میں ہونے والے اس سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کرتی اور اس کا خیال ہے کہ یہ جنگ اپنی قیمت کے لحاظ سے سودمند ثابت نہیں ہوئی۔
سروے کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد فوجی کارروائی کے بجائے جنگ بندی اور سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے جبکہ ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسی پر عوامی اعتماد میں بھی کمی آئی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس، اے پی، اور سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ، این او آر سی، کے سروے کے مطابق تقریباً دو تہائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ ’’لڑنے کے قابل نہیں‘‘ تھی۔ یہ رائے صرف ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹروں تک محدود نہیں بلکہ ریپبلکن ووٹروں کے ایک نمایاں حصے نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا۔
سروے میں صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کی حمایت میں بھی کمی دیکھی گئی جو 34 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی جبکہ ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی حمایت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سروے کے مطابق امریکی عوام کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جنگ نہیں بلکہ مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔
سروے میں شریک تقریباً 72 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ان کے لیے انتہائی اہم ہے، جو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے یا خطے میں فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بھی زیادہ اہم سمجھا گیا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel