Aug ۲۰, ۲۰۲۰ ۱۸:۳۱ Asia/Tehran
  • ٹرمپ پھر رسوا ہونے پر کمر بستہ

سلامتی کونسل میں ہزیمت اٹھانے والے امریکی صدر نے اس بار ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی تمام پابندیاں دوبارہ عائد کروانے کی ناکام تگ و دو شروع کر دی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اپنے وزیر خارجہ مائک پومپیو کو حکم دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی تمام پابندیاں پھر سے لاگو کرانے کی غرض سے ٹریگر میکینزم یا اسنپ بیک کو فعال کرنے کے لیے ضروری اقدامات عمل میں لائیں۔

سلامتی کونسل میں ایران مخالف قرارداد کی ناکامی پر تلمائے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت دعووں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ مغربی ایشیا کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ٹرمپ نے اپنے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو حکم دیا کہ وہ سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ لاگو کرنے والے ٹریگر میکینزم کو فعال بنانے کے لئے ضروری اقدامات عمل میں لائیں۔

کہا جا رہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ واشنگٹن سے نیویارک جائیں گے اور سلامتی کونسل کے چیرمین سے ملاقات کر کے انہیں ٹریگر میکینزم کو فعال بنانے کے امریکی فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈ کوارٹر میں تعنیات روسی نمائندے میخائل اولیانوف نے ایران کے خلاف ٹریگر میکینزم کو فعال بنانے کی امریکی کوششوں کو انتہائی خطرناک مہم جوئی قرار دیا ہے۔ میخائل اولیانوف نے اپنے ذاتی ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ امریکہ بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے نہ صرف امریکہ بلکہ اقوام متحدہ کے لیے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈ کواٹر میں روس کے مستقل مندوب نے ایران سے اپیل کی کہ وہ امریکی اقدام کے مقابلے میں مناسب اور ذمہ دارانہ ردعمل ظاہر کرے۔ میخائل اولیانوف کا کہنا تھا کہ امریکہ کا یہ دعوی کا کہ وہ جامع ایٹمی معاہدے کا رکن ہے، غیر منطقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ٹریگر میکینزم کو فعال بنانے کی کوششوں پر منفی ردعمل سامنے آئے گا۔

قانونی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریگر میکینزم کو فعال بنانے کا مطالبہ امریکہ کو دشوار صورتحال سے دوچار کر دے گا کیونکہ روس چین اور دیگر ممالک پہلے ہی امریکہ کے اس اقدام کے قانونی جواز پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ ان ملکوں کا کہنا ہے کہ امریکہ خود ایٹمی معاہدے کا پابند نہیں ہے، لہذا وہ معاہدے کی اساس پر ٹریگر میکنیزم کو استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراراداد بائیس اکتیس کو خاطر میں لائے بغیر دو سال قبل ایٹمی معاہدے سے باضابطہ طور پر نکل جانے والے امریکہ نے اپنے قانونی حق کی نئی تشریح کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ قرارداد بائیس اکتیس کی اساس پر اب بھی ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کا رکن ہے، بنا برایں وہ ٹریگر میکینزم سے استفادے کا حق رکھتا ہے جس کا ذکر قرار داد بائیس اکتیس میں کیا گیا ہے۔

امریکہ کے اس دعوے کو روس اور چین سمیت سلامتی کونسل کے بیشتر رکن ملکوں نے مسترد کر دیا ہے اور چین سمیت سلامتی کونسل کے بیشتر رکن ملکوں نے ٹھوس ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ٹیگس