ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافہ کیوں ؟ سابق سی آئی اے افسر نے وجہ بتائی
سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھ سے جتنی صورت حال باہر نکلتی جائے گی ، وہ اور زیادہ دھمکیوں پر اتر آئے گا۔
سحرنیوز/دنیا:ایران کے خلاف ٹرمپ کے تند و تیز موقف پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط طور پر تسلیم ہونے کا منصوبہ بنیادی طور پر بے معنی بات ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ سمجھ گیا ہے کہ میدانی صورت حال بہت زیادہ خراب اور پیچیدہ ہوچکی ہے اور اس کے کنٹرول سے باہر نکلتی جارہی ہے۔
امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ نے مزید کہا کہ ٹرمپ جیسے جیسے یہ محسوس کرے گا کہ علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اس کی توقع کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی تو اس کا لب و لہجہ تند و تیز اور لفظوں کی ادائیگی بے ربط ہو جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم امریکہ ایران میں اپنی من پسند حکومت کیسے لائے گا ، جبکہ یہ ایسے میں ہے کہ ایران کے عوام اپنے نظام کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور اپنی ارضی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھر پور استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے مزید کہا کہ اگر امریکی فوج ایران کی سرزمین
میں داخل ہوئی تو امریکہ کو منہ کی کھانی پڑے گی اور اسی دلدل میں پھنس جائے گا جس سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel