دشمن کو چھوڑيں گے نہیں ، انہوں نے ہمارے رہبر کو شہید کیا ہے، جہاں سے حملہ ہوگا وہاں جواب دیں گے ، لاریجانی
اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ایران کا حق ہے اور جہاں سے حملہ ہوگا وہیں جواب دیا جائے گا۔
سحرنیوز/دنیا: اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ جنگ شروع کرنے سے دشمن کا اصل مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ خود ایران کو ہی ختم کرنا تھا۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے سنیچر 7 مارچ کو ایک ٹی وی گفتگو میں کہا کہ ایران بہت بڑا ہے اور اسرائیل اس کے سامنے نظر نہیں آتا، لہذا اس جنگ میں دشمنوں کا ہدف خود ایران تھا وہ ایران کی تقسیم کرنا چاہتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ امام خامنہ اور مسلح افواج میں آپ کے بہت سے فرزندوں کو شہید کرکے وہ یہ ہدف حاصل کرنا چاہتے تھے؛ لیکن فطری طورپراس شہادت پر ایران میں بے انتہا غم واندوہ کے ساتھ ہی ایک عظیم رزمیہ جوش وجذبہ پیدا ہوگیا جس کے بارے میں دشمن نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے سنیچر کو سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ٹرمپ کے پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیغام میں بھی واضح اشارہ کیا گیا ہے کہ ہدف ایران کو تقسیم کرنا تھا۔
ڈاکٹرعلی لاریجانی نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ امریکی مغربی ایشیا بالخصوص ایران سے واقف نہیں ہیں، کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ جوانھوں نے وینزوئلا میں کیا ہے ایران میں بھی کرسکتے ہیں، وہ ملت ایران کی فکر سے واقف نہیں ہیں، ہمارے پاس جذبہ حسینی ہے، اگرچہ ہمیں گہرا اور بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے لیکن اس میں عظیم رزمیہ جوش وجذبہ بھی موجزن ہے اور اس میں ملت ایران کی پائیداری پائی جاتی ہے۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اگر خطے میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملہ کیا گیا تو تہران بھرپور جواب دے گا، کیونکہ اپنی حاکمیت کا دفاع ایران کی مستقل اور واضح پالیسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، ورنہ ایران خود اس کا راستہ روکے گا خطے کے دو ممالک نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم تہران کو اس بارے میں شکوک ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایران اسے بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا اور اسے ایسا سبق سکھائے گا کہ وہ آئندہ ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرسکے۔
ٹی وی پر نشر انٹرویو دیتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ ایران کا آذربائجان کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں، تاہم اگر اس ملک کی سرزمین سے ایران کے خلاف کسی قسم کی سازش یا فضائی کارروائی کی گئی تو ایران اس کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ جب دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر خالی مقامات، اسکولوں، اسپتالوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کردیتا ہے۔ ایران کے خلاف دشمن کی منصوبہ بندی میں حکومت کا خاتمہ، عوام کو سڑکوں پر لانا اور ملک کو تقسیم کرنا شامل تھا، لیکن یہ تمام منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل حملے اسرائیل کے لیے نہایت دردناک ثابت ہورہے ہیں اسی لیے وہاں حملوں کی تصاویر شائع ہونے نہیں دی جاتیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کو طول دینے کا خواہاں نہیں، لیکن جارحیت کرنے والوں کو سزا دینا ضروری ہے اور شہید امام خامنہ ای پر حملے کے نتائج امریکا اور صیہونی حکومت کے لیے بہت مہنگے ثابت ہوں گے اور ایران اس کا بدلہ ضرور لے گا۔
انہوں نے یورپی ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اس جنگ میں عملی طور پر شرکت کی تو ایران کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel