Jul ۲۹, ۲۰۲۱ ۰۵:۰۷ Asia/Tehran
  • رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی تیل صنعت کے بارے میں دس سال پہلے ہی کر دی تھی اہم پیشنگوئی، آج بالکل صحیح ثابت ہوئی

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکی تیل کے ذخائر اور تیل کی صنعت کے بارے میں 10 سال پہلے ایک پیشنگوئی فرمائی تھی جو آج بالکل درست ثابت ہو رہی ہے۔

ایران کے مشہور تجزیہ نگار محمد رضا کیاشمسکی نے ایک مقالے میں اسی موضوع پر تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 20ویں صدی کی بات کی جائے تو 1970 میں امریکی تیل کی پیداوار اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ اس سال امریکا روزانہ 96 لاکھ 37 ہزار بیل تیل پیدا کر رہا تھا۔ 1980 میں یہ مقدار کم ہو کر 85 لاکھ 97 ہزار بیرل روزانہ ہوگئی۔

1990 میں اس مقدار میں مزید کمی واقع ہوئی اور امریکی تیل کی پیداوار کی مقدار 73 لاکھ 55 ہزار بیرل ہوگئی۔ سال 2000 آیا تو امریکا کی تیل کی پیداوار 58 لاکھ 22 ہزار بیرل رہ گئی۔ 2010 میں یہ مقدار پھر کم ہوئی اور امریکا کے تیل کی پیداوار روزانہ 54 لاکھ 84 ہزار بیرل پر آ گئی۔

ان حالات کے مد نظر امریکی حکام کو شدید تشویش لاحق ہوگئی تھی کہ وہ مغربی ایشیا کے تیل کے ذخیروں پر ایک بار پھر بری طرح منحصر ہونے جا رہے ہیں۔

امریکا اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے شیل آئیل کی مدد لے رہا تھا تاہم شیل آئیل کی پیداوار پر بہت زیادہ خرچہ آتا ہے اسی لئے کمپنی کی دلچسپی اس تیل میں کم ہوتی جا رہی ہے۔

امریکا اب بھی شیل آئیل کی مدد سے اپنی تیل کی پیداوار سنبھالنے کی کوشش تو ضرور کر رہا ہے لیکن اسے پتہ ہے کہ یہ صورتحال آگے چل کر اسے نقصان پہنچائے گی۔

کورونا وبا کی وجہ سے ساری دنیا میں تیل کا مطالبہ کم ہو گیا تو امریکا کی کئی شیل آئیل کمپنیاں دیوالیہ ہوگئیں۔

2012 میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ مغربی ممالک تیل کے ذخائر کے مد نظر شدید بحران میں پھنس چکے ہیں اور ان کی مشکل روز بروز شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔

یورپی ممالک بلکہ مغربی ممالک کے تیل کے ذخائر کی بات کی جائے تو کچھ ممالک کے تیل ذخائر 4 سال میں اور کچھ کے 6 سال میں ختم ہو جانے والے ہیں، کچھ ممالک کے تیل کے ذخائر 9 سال تک چلیں گے۔

ان حالات میں ان ممالک کے سامنے یہی راستہ ہے کہ وہ دیگر ممالک کے تیل کے ذخائر کا استعمال کریں۔ امریکا کے پاس 30 ارب بیرل سے زیادہ تیل کا ذخیرہ ہے، خود امریکی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تیل 2021 تک ختم ہو جائے گا۔  

رہبر انقلاب اسلامی نے اس وقت دنیا کے توانائی کے ماہرین کے تجزیہ کی بنیاد پر پیشنگوئی کی تھی۔ اس کے بعد سے امریکا نے بڑی کوشش کیی کہ حالات بدل جائیں۔ امریکا نے ایران کے خلاف تو بڑے غیر انسانی قدم بھی اٹھائے۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح اپنا تیل کا ذخیرہ ختم ہونے سے بچا لے۔

رہبر انقلاب اسلامی کی پیشنگوئی آج پوری طرح سچ ثابت ہو رہی ہے۔ امریکا میں شیل آئیل کی پیداوار تیزی سے کم ہو رہی ہے اور امریکا کی تیل کی ضرورت اور پیاس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور امریکا لاکھ کوششوں کو باوجود حالات کا رخ بدل نہیں پا رہا ہے۔

ٹیگس