Apr ۱۳, ۲۰۲۲ ۰۸:۴۵ Asia/Tehran
  • اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام اقوام عالم کے لئے ایک پرکشش نمونہ ہے: رہبر انقلاب

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی نظام دنیا کی قوموں کے لئے ایک پرکشش نمونہ بن گیا ہے۔

منگل کے روز صدر ایران، پارلیمنٹ اسپیکر، عدلیہ کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ سول و فوجی حکام نے قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس موقع پر آپ نے ملک کے سبھی مسائل کو یقینی طور پر قابل حل بتایا اور اس سال کے نعرے کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی۔

آپ نے فرمایا کہ طاقت اور مختلف میدانوں میں گوناگوں کارناموں کی بدولت ایران قوموں کے لئے ایک پرکشش نمونہ بن گیا ہے۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ویکسین سمیت مختلف میدانوں میں خود کفیل ہونے، غیر ملکی قرض کے صفر کے قریب ہونے اور مختلف علمی، صنعتی اور ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی کی نشانی قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ان کامیابیوں کا ایک اور نمونہ ملک کے نظم و نسق کا صحیح و رواں انداز میں آگے بڑھنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ دوسرے ملکوں کے برخلاف، اتنی دشمنیوں کے باوجود ملک کا نظم و نسق، معمول سے باہر کسی اقدام کے بغیر قانونی طریقے سے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہو رہا ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ان کارناموں اور خطے میں روحانی اثر و رسوخ اور اسٹریٹیجک گہرائی نے اسلامی جمہوریہ کو پرکشش نمونے میں تبدیل کر دیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دشمن اپنی لالچ کی وجہ سے مایوس کن باتیں کرتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن سب باتیں بعد میں غلط ثابت ہوئیں، جسیا کہ صدام نے مسلط کردہ جنگ کے آغاز میں تہران کو ایک ہفتے میں فتح کرنے کا وعدہ کیا تھا، یا کچھ سال پہلے ایک امریکی جوکر نے کرسمس کا جشن تہران میں منانے کی بات کہی تھی۔ قائد انقلاب اسلامی نے تاکید کی کہ مغرور امریکیوں کا ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ پابندیوں کی ذلت آمیز ناکامی کا صاف لفظوں میں اعتراف بہت اہم نکتہ ہے جسے یاد رکھنا چاہیئے۔

آپ نے ملک کی سفارتی کوششوں کو صحیح سمت میں آگے بڑھتا ہوا قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پوری طرح ایٹمی معاملے میں الجھ نہ جائیں بلکہ ملک کی حقیقی صورت حال کی بنیاد پر اپنے منصوبے بنائیں اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ آیت اللہ العظمیٰ  خامنہ ای نے مذاکرات کے ذمہ داروں کو انقلابی، متدین اور جدوجہد کے جذبے سے مالامال قرار دیا اور دھونس و دھمکی کے مقابلے میں مذاکرات کار ٹیم کی پائداری پر خوشی ظاہر کی۔ آپ نے فرمایا کہ سامنے والا فریق جس نے عہد کو توڑا اور جوہری معاہدے سے نکل گیا، آج خود کو بند گلی میں بے بس محسوس کر رہا ہے، جبکہ اسلامی نظام نے عوام کے بھروسے بہت سی مشکلوں کو سر کر لیا اور اس مرحلے سے بھی گزر جائے گا۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فلسطین کی مقبوضہ سرزمین پر فلسطینی جوانوں کی بیداری اور سرگرمیوں کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ ان سرگرمیوں سے ظاہر ہو گیا کہ فلسطین امریکہ اور اسکی پیروی کرنے والوں کی کوششوں کے برخلاف زندہ ہے اور اللہ کے فضل سے فیصلہ کن کامیابی فلسطینی عوام کو حاصل ہو کر رہے گی۔

آپ نے اسی طرح یمن میں حالیہ جنگ بندی کو بھی ایک اچھا قدم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ معاہدہ صحیح معنی میں نافذ ہو تو مستقبل میں بھی جاری رہ سکتا ہے اور اس بات میں شک نہیں کہ یمن کے عوام ہمت، شجاعت، اپنی اور اپنے رہنماؤں کی جدت عمل سے کامیاب ہیں اور اللہ بھی اس مظلوم عوام کی مدد کرے گا۔

ٹیگس