Sep ۲۴, ۲۰۲۳ ۱۶:۱۷ Asia/Tehran
  • ایران کی پالیسی میں ایٹمی اسلحے کی کوئی جگہ نہیں، ایرانی وزیر خارجہ

وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی میں ایٹمی اسلحے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

سحر نیوز/ ایران: نیویارک میں مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی شام سیکریٹری جنرل کے دفتر میں انجام پانے والی ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ نے پڑوسیوں اور کچھ عرب و اسلامی ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات میں آنے والی خوشگوار تبدیلیوں سے گوٹیرش کو مطلع کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے اور جنوبی کوریا میں ایران کے منجمد اثاثوں کی آزادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ایٹمی معاہدے کے بارے میں ہمیشہ آپ کے ساتھ اچھے مشورے ہوئے ہیں، امریکہ کے ساتھ پیغاموں کا تبادلہ جاری ہے جبکہ سلطان عمان کی تجویز پر بدستور غور ہو رہا ہے اور اگر دوسرے فریق آمادہ ہوں تو ہم ایٹمی معاہدے میں واپسی کے لئے سنجیدہ ہیں۔

وزير خارجہ نے آئي اے ای اے کے ساتھ تعاون کے بارے میں بھی کہا: جب بھی آئي اے ای اے فنی دائرے میں کام کرتی ہے سب کچھ ٹھیک رہتا ہے لیکن جب دوسرے فریق، اپنے سیاسی نظریات کو آئي اے ای اے کے فنی امور پر ترجیح دینے لگتے ہيں تو حالات خراب ہو جاتے ہيں۔ انہوں نے کہا: ایران کی پالیسی میں ایٹم بم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بھی ایٹمی اسلحے کے حرام ہونے کے بارے میں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے فتوے کے جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایٹمی اسلحے کی فکر میں نہیں ہے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے سنیچر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ دنیا میں ایٹمی اسلحہ رکھنے والے ملکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ اس کا ایٹمی اسلحہ تیار کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سلسلے میں رہبر انقلاب فتوی بھی صادر کرچکے ہیں، اسی بنا پر ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ ایٹمی اسلحہ نہیں بنائيں گے لہذا ایران کے پڑوسی بھی اس راستے پر چلنے کے بارے میں نہیں سوچیں گے۔لاؤروف نے یہ بات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ بیان کے تعلق سے تاس کے نامہ نگار کے سوال کے جواب میں کہی ۔محمد بن سلمان نے بدھ کے روز امریکا کے فاکس ٹی وی چینل سے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایٹمی اسلحے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس کا استعمال نہیں کیا جاسکتا اور دنیا ایک اور ہیرو شیما کو تحمل نہیں کرسکتی۔

بن سلمان نے ایٹمی اسلحے تک ملکوں کی دسترسی کی بابت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک بھی ایٹمی اسلحہ استعمال کرے گا اس کو دنیا کے سبھی ملکوں کے ساتھ جنگ کا سامنا ہوگا۔سعودی عرب کے ولی عہد نے اسی کے ساتھ کہا تھا کہ اگر ایران نے ایٹمی اسلحے تک دسترسی حاصل کی تو ان کا ملک بھی ایٹمی اسلحہ حاصل کرے گا۔

ٹیگس