Jan ۰۹, ۲۰۲۶ ۱۴:۱۷ Asia/Tehran
  •  تہران اور کئی دیگر شہروں میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں اور منافقین نے عوامی املاک کو پہنچایا نقصان

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران اور کئی دیگر شہروں میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں اور منافقین نے پرتشدد مظاہروں کے دوران سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔

سحرنیوز/ایران: تفصیلات کے مطابق امریکہ اور صیہونی حکومت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں اور اسلامی نظام کے مخالفین نے گذشتہ رات تہران سمیت ایران کے دیگر شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے اور اس موقع پر انھوں نے عام لوگوں کی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں، بسوں، بینکوں ، میٹرو ٹرین کے اسٹیشنوں سپرمارکیٹوں اور کئی مساجد سمیت دیگر پبلک مقامات کو نذرآتش کر دیا۔ ان دہشت گردوں کے پرتشدد اقدامات میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی بھی ہو گئے۔ دہشت گردوں نے کئی سڑکوں اور دکانوں کو زبردستی بند کرانے کی کوشش کی۔ اس دوران ان کی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی اہلکاروں سے جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کئی پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہو گئے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد قتل و غارتگری کے اقدامات کر کے عوام میں خوف و دہشت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سرکاری حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمن کے ایجنٹوں اور آلہ کاروں سے ہوشیار رہیں اور دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے آلہ کار دہشتگردوں کو اس وقت زیادہ حوصلہ ملا جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں دہشتگردوں، بلوائیوں اور تخریب کارانہ اقدامات کرنے والے عناصر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام آپ کے ساتھ ہیں اور اگر ایران نے بلوہ کرنے والوں اور دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی قسم کا ایکشن لیا تو ہم ایران کے خلاف کارروائی کریں گے۔ 

امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کے داخلی امور میں اس طرح کی کھلی جارحیت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس لئے کہ ٹرمپ کا اعلان در اصل اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اگر عالمی ادارے کسی بھی منہ زور ملک کے صدر کے خلاف اقدام نہ کرے تو دنیا بھر میں جنگل کا قانون نافذ ہو جائیگا اور ہر کوئی اپنی من مانی کرے گا اور دنیا عدم استحکام کا شکار ہو جائیگی اور اس طرح کوئی بھی نہ فقط محفوظ نہیں رہے گا بلکہ ہر کوئی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے گا اور اس کی تازہ مثال امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے عوامی اور منتخب صدر کا اغوا ہے، جسے ٹرمپ نے اس لئے اغوا کروایا کہ اس نے اپنے ملکی مفادات کی بات کی تھی اور امریکی ڈکٹیشن کو قبول کرنے سےصاف انکار کردیا تھا۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس