ایران نے کبھی بھی مذاکرات کو ٹھکرایا نہیں لیکن مذاکرات کو باہمی احترام کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور کسی بھی دھونس دھمکی کے بغیر: سید عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے الجزیرہ چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کو ٹھکرایا نہیں لیکن مذاکرات کو باہمی احترام کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور کسی بھی دھونس دھمکی کے بغیر۔
سحرنیوز/ایران: سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ایٹمی معاملے پر مذاکرات کی تیاری رکھتا ہے لیکن دھمکی آمیز رویے اور تسلط پسندی کے بغیر۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے ساتھ رابطہ لائن برقرار ہے اور اس بیچ بعض تجاویز پیش کی گئی ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بات کہ مذاکرات میں ایک فریق کو توقع ہو کہ اسے ہی تمام مفادات حاصل کرنے چاہئیں، ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات کو باہمی احترام کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور وہ بھی کسی بھی دھونس دھمکی کے بغیر۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کی پیش کش کے ساتھ ساتھ کچھ دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایٹمی مذاکرات دھونس دھمکیوں کے بغیر ممکن ہیں لیکن اب تک ہم مطمئن نہیں ہوسکے ہیں کہ امریکہ اپنے اس رویے سے باز رہے گا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تاریخ اچھی نہیں رہی ہے جس کی واضح مثال 2018 میں امریکہ کا ایٹمی معاہدے سے نکل جانا اور دوسرا واقعہ مذاکرات کے بیچ ایران پر جارحیت ہے لہذا امریکہ کے ساتھ مذاکرات منصفانہ اور متوازن نہیں ہیں۔