صدر پزشکیان: دشمنوں کے لئے ہماری توانائی اور پائیداری نا قابل برداشت ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i454814-صدر_پزشکیان_دشمنوں_کے_لئے_ہماری_توانائی_اور_پائیداری_نا_قابل_برداشت_ہے
صدر مملکت نے عوام سے خطاب میں کہا ہے کہ دشمن  ایران کو توانا اور پائیدار نہیں دیکھنا چاہتے
(last modified 2026-08-06T12:03:01+00:00 )
Aug ۰۶, ۲۰۲۶ ۱۵:۳۲ Asia/Tehran
  • صدر پزشکیان: دشمنوں کے لئے ہماری توانائی اور پائیداری نا قابل برداشت ہے

صدر مملکت نے عوام سے خطاب میں کہا ہے کہ دشمن  ایران کو توانا اور پائیدار نہیں دیکھنا چاہتے

سحرنیوز/ایران: صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے  بدھ کی رات قومی ٹی وی کے ذریعے عوام سے گفتگو کی ۔  

انھوں نے کہا کہ ہمارے دشمن ہر اس چیز کے مخالف ہیں جو ایران کی توانائی، پائیداری، ایجادات اور خلاقیت کی علامت ہو اسی لئے وہ ہماری یونیورسٹیوں، درسگاہوں، خلائی تحقیقات ، مصنوعی ذہانت اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی میں ریسرچ اور تحقیقات کے مراکز پر حملے کرتے ہیں اور اب تک ہمارے متعدد اہم سائنسدانوں، یونیورسٹی اساتذہ اور دیگر دانشوروں کو شہید کرچکے ہیں۔   

 صدر مملکت نے ایران کا بنیادی سماجی ڈھانچہ ختم کردینے کی دشمنوں کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مدت میں دشمن نے پوری طاقت ہماری استقامت و پائیداری ختم کردینے پر لگادی اور اگر آج ہم  اپنی جگہ پائیداری کے ساتھ باقی ہیں تو اس کا سہرا ہمارے باشرف عوام کے سر جاتا ہے۔ یہ ہمارے باشرف عوام ہیں کہ جنہوں نے ہماری پائیداری باقی رکھی ہے۔  انھوں نے کہا کہ مغرب والے انسانی حقوق، حیوانات کے حقوق اور آزادی وغیرہ کی جو باتیں کرتے تھے، وہ ہمارے پہلے بھی قابل یقین نہیں تھیں لیکن اب ان کی ان باتوں کی حقیقت پوری طرح بے نقاب ہوچکی ہے۔

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ انھوں نے ہمارے رہبر کو  کیوں شہید کیا؟ ہمارے فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں کو کس جرم پرشہید کیا ؟ ہمارے بچوں کا کیا گناہ تھا جو ان کا قتل کردیا؟ میں نے بہت سوچا لیکن اس کی کوئی منطقی دلیل نہ مل سکی۔  

 

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمارے جن رہنماؤں، کمانڈروں اور سائنسدانوں کو شہید کیا گیا، وہ بہت سادہ زندگی بسر کررہے تھے، بعض ایسے تھے کہ جن کے پاس اپنا گھر بھی نہیں تھا اور جن کے پاس اپنے گھر تھے، وہ بہت چھوٹے تھے۔ ان کے پاس مال دنیا میں کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کی سادگی کی زندگی، ان کی صداقت اور فداکاری کا ثبوت ہے۔