Mar ۲۸, ۲۰۲۴ ۱۷:۰۶ Asia/Tehran
  • حزب اللہ سے وسیع جنگ کیوں نہیں چاہتا اسرائیل، سابق امریکی فوجی افسر کا انکشاف

امریکی میرینز کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر نے فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے جرائم کے بعد صیہونی حکومت کی عالمی تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت، ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے اور حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی جنگ میں اسرائیل کو شکست ہوگی۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: تسنیم نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے انسپکٹر نے "اسکاٹ رائٹر" نے جو کہ امریکی میرین کور کے سابق انٹیلی جنس افسر بھی تھے، مزاحمت اور غاصب فوج کے درمیان جاری جنگ کے بارے میں گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں فلسطین کی حمایت میں اٹھنے والی عالمی آوازیں اسرائیل کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں سے کہیں زیادہ ہیں اور حماس نے ایک عالمی سیاسی متحرک بنا دیا ہے جسے کوئی بھی فریق عبور نہیں کر سکتا۔

رائٹر نے المیادین چینل کے پروگرام میں کہا کہ اسرائیل کے لیے لبنان کے خلاف ہمہ گیر جنگ شروع کرنا، فوجی نقطہ نظر سے غیر منطقی ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے پاس مختلف ہتھیار ہیں جو اسرائیل کی صلاحیتوں اور نظام کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔

امریکی میرینز کے سابق انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رائٹر کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف کسی بھی جنگ میں ہار سکتا ہے۔

اس امریکی افسر نے غزہ جنگ کے سائے میں اسرائیل کے اندرونی محاذ کی صورتحال کے بارے میں یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو انتہائی خود غرضانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں اور وہ اپنی قانونی گرفت کھو چکے ہیں اور اگر وہ اقتدار چھوڑتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کی پوزیشن ایسی ہے کہ سب نے سمجھ لیا ہے کہ انہیں نتن یاہو کے عزائم سے الگ ہو جانا چاہیے جنہوں نے اسرائیل کو خطرات کے راستے پر ڈال دیا ہے اور اس سے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اسکاٹ رائٹر نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر یعنی طوفان الاقصیٰ آپریشن اور حماس کی عسکری اور سیاسی استقامت نیز فلسطینی عوام کی ہمت نے امریکہ اور اسرائیل کے حالات کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

درحقیقت 7 اکتوبر کے بعد فلسطینی قوم کی مزاحمت ایک عالمی حقیقت بن گئی اور حماس نے ایک عالمی سیاسی حرکت پیدا کر دی جس پر کوئی بھی فریق قابو نہیں پا سکتا۔

اس امریکی افسر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حماس مزاحمت جاری رکھے تو دنیا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات عارضی نہیں رہیں گے اور یقینی طور پر جاری رہیں گے، آج ہم دیکھتے ہیں کہ فلسطین کی حمایت میں دنیا کی آواز اسرائیل کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ٹیگس