Aug ۲۹, ۲۰۲۵ ۱۶:۳۴ Asia/Tehran
  • ہیومن رائٹس واچ: غزہ میں شریک جرم ہونے کی وجہ سے امریکی فوجیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے

ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں اکیلے ہی انجام نہیں دے رہی ہے بلکہ رپورٹیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان فوجی کارروائیوں میں امریکی افواج بھی شریک ہیں۔

سحرنیوز/عالم اسلام: ہیومن رائٹس واچ میں واشنگٹن کی ڈائریکٹر سارہ یاجر نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب میں اسرائیلی افواج کے ساتھ حصہ لینے پر قانونی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 سارہ یاجر نے کہا کہ اسرائیلی افواج کے ساتھ فوجی کارروائیوں میں امریکی افواج کی براہ راست شرکت کا مطلب ہے کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غزہ میں مسلح تصادم کا فریق تھا اور رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجی اہلکار، انٹیلی جنس حکام اور ٹھیکیدار جو جنگي جرائم میں اسرائیلی افواج کی مدد کرتے ہیں، ممکن ہے ایک دن ان کے خلاف بھی غزہ میں ہونے والے مظالم کے لیے مقدمہ چلایا جائے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون، اس ریاست اور حکومت کو ان جرائم میں ملوث ہونے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے جو جان بوجھ کر جنگ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور دیگر خلاف ورزیوں میں کسی دوسری ریاست اور حکومت کی مدد کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی مرتکب ہوئی ہيں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ تنازعے کا فریق ہونے کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بین الاقوامی طور پر غیر قانونی کارروائیوں کے لئے بھی ذمہ دار ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اور دوسری ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت اور سیکیورٹی میں مدد کی ہے-

سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سیکیورٹی اسسٹنس مانیٹر کے مطابق، امریکہ نے اکتوبر 2023 سے مئی 2025 کے درمیان اسرائیل کو کم از کم 4.17 ارب ڈالر کے ہتھیار منتقل کیے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ کے آخر میں مزید کہا کہ ہم نے مسلسل امریکہ اور دیگر حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کو مزید مظالم کرنے سے روکنے کے لیے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اور فوجی امداد روکنے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں عائد کرنے، اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کو معطل کرنے سمیت دیگر اقدامات کریں۔

ٹیگس