نیتن یاہو معافی کے طلبگار، 111 صفحے کے معافی نامہ میں مانگی معافی
بدعنوانی، رشوت اور فراڈ کے الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کر رہے اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے خلاف مقدمات ختم کرنے کے لئے اسرائيل کے صدر سے معافی کی درخواست کی ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام:رپورٹس کے مطابق، نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے صیہونی حکومت کے صدر اسحاق ہرتزوگ،کو معافی کی درخواست پیش کی ہے۔ یہ درخواست اب وزارت انصاف کے معافی کے محکمہ کو منتقل کر دی گئی ہے اور متعلقہ قانونی نظریات، وزارت کے مختلف شعبوں سے حاصل کئے جائيں گے ۔
نیتن یاہو نے ہرتزوگ کو اپنے خط میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی شدید تنازعات کا مرکز بن گئی ہے اور اگرچہ وہ مقدمے کو جاری رکھنے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے خواہش مند ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ یہ مقدمہ جلد از جلد ختم کیا جائے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ اس کشمکش کو ختم کرنے سے اختلافات میں کمی اور عوامی مفاہمت ہو سکتی ہے۔
نیتن یاہو کی معافی کی درخواست 111 صفحات پر مشتمل ہے اور عبرانی میڈیا نے لکھا ہے کہ اس میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نے کوئی جرم تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ ہی حقائق بیان کیے ہیں بلکہ صرف عوامی ذمہ داریوں اور موجودہ واقعات کے ممکنہ نتائج کی طرف اشارہ کیا ہے۔
واضح رہے نیتن یاہو اس وقت تین الگ الگ مقدمات میں بدعنوانی کے مختلف الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سزا کی صورت میں انہيں جیل ہو سکتی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok
کیس نمبر 4000 میں، ان پر مالی مفادات کے بدلے مثبت میڈیا کوریج حاصل کرنے کے الزامات ہیں، نیز کیس نمبر 1000 اور 2000 میں تاجروں سے مہنگے تحائف حاصل کرنے اور سازگار میڈیا کوریج کے لیے بات چیت کے بھی الزامات ہیں۔
نیتن یاہو اپنے خلاف ان مقدمات سے بچنے کے لئے برسوں سے تگ و دو کر رہے ہيں اور بہت سے تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ غزہ جنگ کی طوالت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نیتن یاہو، اس طرح سے خود کو سزاؤں سے بچانا چاہتے ہيں۔