مقبوضہ بیت المقدس میں قدامت پسند یہودیوں کا احتجاج
مقبوضہ فلسطین میں اندرونی تنازعات جاری رہنے کے ساتھ ہی انتہائی قدامت پسند یہودیوں کی طرف سے لازمی فوجی سروس کے قانون کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔
سحرنیوز/عالم اسلام: صہیونی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں اندرونی تنازعات جاری رہنے کے ساتھ ہی انتہائی قدامت پسند یہودیوں کی طرف سے لازمی فوجی سروس کے قانون کے خلاف مظاہرے کے نتیجے میں یروشلم کی ایک مرکزی سڑک بند ہوگئی اور پولیس کی مداخلت کے نتیجے میں تشدد بھڑک اٹھا۔
صہیونی میڈیا کے مطابق انتہائی قدامت پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے مقبوضہ بیت المقدس میں لازمی فوجی خدمات کے خلاف احتجاج میں شہر کی ایک مرکزی سڑک کو بلاک کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے لازمی فوجی سروس قانون کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے فوج میں شمولیت کی مخالفت کا اعلان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون ان کے مذہبی عقائد اور طرز زندگی سے متصادم ہے۔
اس کے بعد صیہونی حکومت کی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
مقامی ذرائع کے مطابق پولیس نے انتہائی قدامت پسند یہودی مظاہرین پر تشدد کیا۔ اس کارروائی کے باعث جائے وقوعہ پر کشیدگی اور جھڑپیں بھی ہوئیں۔
انتہائی قدامت پسند یہودی ، مذہبی طلبا کو لازمی فوجی خدمات سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھنے اور جنگ میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔