بھوک کی وجہ سے 466 فلسطینی شہید: فلسطینی وزارتِ صحت
غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ غزہ جنگ میں 2024 سے اب تک بھوک کی وجہ سے 466 فلسطینی شہی ہو چکے ہیں۔
سحرنیو/عالم اسلام: میڈیا رپورٹوں کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ 2024 سے لے کر اب تک غذائی قلت اور فاقہ کشی کے باعث کم از کم 466 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہدا میں 157 بچّے اور کم از کم 189 عمر رسیدہ افراد بھی شامل شامل ہیں۔
فلسطین کی وزارتِ صحت نے یہ اعداد و شمار عالمی یوم خوراک کے موقع پر جاری کئے، جو ہر سال 16 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔

مذکورہ وزارت نے کہا کہ 2026 کے اختتام تک 14 لاکھ سے زائد افراد، یعنی آبادی کے تقریباً 67 فیصد حصے کو بحرانی سطح کے غذائی عدم تحفظ یا اس سے بھی بدتر صورت حال کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے۔ وزارت نے بتایا کہ ”غزہ میں غذائی قلت اور بھوک کی شرح تباہ کن سطح پر پہنچ چکی ہے جو بچوں، بوڑھوں اور کمزور طبقات کی جانیں لے رہی ہے۔“

فلسطین کی وزارتِ صحت نے عالمی برادری سے اس سلسلے میں اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”خوراک کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے جو جنگ کے دوران بھی ختم نہیں ہوتا۔“ اس نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور بوڑھوں کو ترجیح دیتے ہوئے خوراک اور علاج معالجے کے لیے درکار ساز و سامان اور ادویات کے محفوظ، مسلسل اور بلا روک ٹوک داخلے کو یقینی بنائیں اور خوراک کی مقامی پیداوار کی حمایت کریں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ نے اگست 2025 میں غزہ میں قحط کا اعلان کیا تھا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel