May ۰۶, ۲۰۲۴ ۱۲:۰۶ Asia/Tehran
  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہمیں پبلک مینڈیٹ کی حفاظت کرنی ہے

سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

سحر نیوز/ پاکستان: سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل کردیا۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ  نے بتایا کہ خیبرپختونخواہ میں جے یو آئی کو 7 نشستوں پر دس مخصوص نشستیں دی گئیں، پیپلز پارٹی کو چار نشستوں پر 6 اور ن لیگ کو پانچ نشستوں پر 8 مخصوص نشستیں دی گئیں، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائے گی، ہمیں پبلک مینڈیٹ کی حفاظت کرنی ہے، اصل مسئلہ پبلک مینڈیٹ کا ہے، مخصوص نشستوں کی تقسیم کا آئینی اصول کیا ایک تکنیکی اصول سے ختم ہوسکتا ہے، اگر ایک سیاسی جماعت نے مخصوص نشستوں کیلئے فہرست جمع نہیں کرائی تو آئین نظر انداز ہو سکتا ہے؟ کیا بانٹی گئی مخصوص نشستیں دوبارہ بانٹی جا سکتی ہیں، ایسا آئین اور قانون میں ہے؟ اگر بانٹی گئی نشستیں دوبارہ نہیں بانٹی جا سکتی تو کیا وہ خالی رہیں گی۔

جسٹس اطہر نے کہا کہ سیاسی جماعت کو اتنی ہی مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں جتنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے ان کی بنتی ہیں، ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا، قانون میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انتخابی نشان نہ ملنے پر وہ سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑ سکتی؟ پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت تو ہے۔

سپریم کورٹ نے کیس کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کے علاوہ دوسروں کو دینے کے الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو معطل کر دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 78 مخصوص سیٹیں دیگر جماعتوں کو دی گئیں، ہم یہ کہتے رہے کہ کسی جماعت کو اس کے حق سے زیادہ سیٹیں نہیں مل سکتیں، ان مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق تھا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف اپیلیں دائر کیں۔

ٹیگس