پاکستان: پیکا ایکٹ سے آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹا گیا، راجہ ناصر عباس
پاکستان کے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹا گیا ہے۔
سحرنیوز/پاکستان: اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب رسمی ذرائع سے خبر نہیں ملتی تو افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور یہ کہ پاکستان میں پیکا ایکٹ سے آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ناجائز طور پر پریشرائز کرکے میڈیا سے کہا جاتا ہے کہ فلاں جماعت یا شخص کا نام نہ لیا جائے، حقائق تک رسائی ضروری ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پیمرا کا جو نوٹس جاری ہوا یہ مناسب نہیں، پہلے ہی لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور دفعہ 144 لگا دی جاتی ہے.
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فری ٹرائل کا حق دیا جانا چاہیے تھا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاست داں جوابدہ ہیں تو پھر عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور تمام افراد جوابدہ ہیں، ضروری ہے کہ سوال کا جواب دیا جائے، اگر غلطی ہے تو اصلاح کی جائے۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ اگر کوئی سوال نہیں کرے گا یا تنقید نہیں کرے گا تو پھر ڈکٹیٹرشپ ہوگی۔