Jan ۰۷, ۲۰۲۱ ۱۸:۱۵ Asia/Tehran
  • واشنگٹن کے فسادات اور بلوؤں کا دائرہ دیگر ریاستوں میں بھی پھیل گیا

امریکا کے شکست خوردہ صدر ٹرمپ کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد ان کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملہ کر دیا اور عمارت کے اندر توڑ پھوڑ کی۔ اس حملے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں کے بلووں اور شورش کا دائرہ امریکا کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے۔

جمہوریت کا جھوٹا دعوی کرنے والا امریکا ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا اور جس طرح سے عوام کی امنگوں کا انتہائی بے شرمی کے ساتھ خون کیا گیا پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

کانگریس کی عمارت پر اور اس کے اندر ٹرمپ کے حامیوں کے تشدد اور قتل و غارتگری کا ننگا ناچ کافی دیرتک ٹرمپ کے حکم پر ہوتا رہا۔ اس حملے میں کم سے کم چار افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے واشنگٹن میں کانگریس کی عمارت پر حملے کے بعد کینزاس، جورجیا اور نیو میکسیکو کی ریاستی کانگریس کی عمارتوں پر دھاوا بول دیا۔ نیو میکسیکو کی پولیس نے ریاستی کانگریس کی عمارت کے سامنے اجتماع اور پھر حملے کے بعد احتیاط کے طور پر کارکنوں کو کانگریس کی عمارت سے باہر نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ریاست اورگان کی عمارت کے قریب ٹرمپ کے حامیوں اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے بھی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ بدھ کی شب صدارتی انتخابات کے الیکٹورل ووٹوں کی توثیق کے لئے امریکی کانگریس نے اجلاس طلب کیا تھا جو کانگریس کی عمارت پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے کے بعد  روک دیا گیا تھا۔ اس حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

کانگریس کی عمارت پر حملہ کرتے ہوئے ٹرمپ کے حامی ایوان نمائندگان اور سینٹ کے ایوانوں اور مختلف چیمبرز میں گھس گئے اور لوگوں پر وحشیانہ حملہ کر دیا جبکہ عمارت کے اندر توڑ پھوڑ بھی کی۔ ٹرمپ کے حامی کانگریس کے اندر آزادانہ طور پر دندناتے پھرتے رہے اور ہر طرف ہنگامہ آرئی توڑ پھوڑ کرتے دیکھے گئے۔ واشنگٹن میں اس وقت کرفیو نافذ ہے اور شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

امریکی کانگریس کی عمارت پر حملہ اور ٹرمپ کی جانب سے اپنے حامیوں کو اشتعال دلانا اور اس پورے واقعے پر بین الاقوامی سطح پر آنے والا ردعمل ایک ایسا اتفاق ہے جس کی اس سے پہلے امریکہ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ ردعمل یورپ کی جانب سے ظاہر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے امریکی کانگریس پر یلغار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ڈیموکریسی محاصرے میں ہے اور انتخابات کے نتائج کا پوری طرح احترام کیا جانا چاہئے۔

برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن نے بھی بدھ کے روز پیش آنے والے واقعے اور امریکی کانگریس پر حملے کو شرمناک قرار دیا اور ٹوئٹ کر کے کہا کہ امریکہ میں اقتدار کی منتقلی، پرسکون اور منظم طریقے سے انجام پانا چاہئے۔

فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے بھی ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے کہا ہے کہ جب دنیا کی ایک مضبوط ترین جمہوریت میں ایک ایسے صدر کے حامی جس کا دور صدارت ختم ہو رہا ہے، اسلحے کے بل پر ایک قانونی الیکشن کے نتائج کو مشکوک بنا رہے ہیں وہ در حقیقت ’ایک شخص ایک ووٹ‘ کی آئیڈیالوجی پر حملہ کر رہے ہیں۔

اس بیچ کانگریس کی عمارت پر امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے اور پرتشدد اقدامات کے باوجود جوبائیڈن، الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور اس طرح وہ قانونی طور پر امریکہ کے چھیالیسویں صدر قرار پائے اور ان کے عہدہ صدارت کی توثیق کردی گئی۔

بدھ کو الیکٹورل ووٹوں کی گنتی اور بائیڈن کی جیت کی توثیق کے لئے کانگریس کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ بارہ الکٹورل ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت پر حملہ کر دیا جس کی بنا پر ووٹوں کی گنتی اور بائیڈن کی توثیق کا عمل تقریبا چھے گھنٹوں تک کے لئے ملتوی کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے:

سپر پاور امریکہ کی کہانی تصاویر کی زبانی

امریکی پارلیمنٹ پر حملہ، واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ

شکست خوردہ ٹرمپ کی ہنگامہ آرائی جاری

امریکی دکانداروں پر ٹرمپ کے حامیوں کا خوف طاری

ٹرمپ اور انکے حامیوں نے تاریخ کا سیاہ ترین دن رقم کیا: جوبائیڈن

ٹیگس