May ۲۷, ۲۰۲۳ ۱۵:۱۴ Asia/Tehran
  • امریکی پولیس کی گیارہ سالہ سیاہ فام بچے پر براہ راست فائرنگ

ایک گیارہ سالہ سیاہ فام بچے پر امریکی پولیس نے براہ راست فائرنگ کی ہے کہ جس نے ہنگامی فون کال کر کے مدد طلب کی تھی۔

سحر نیوز/ دنیا: میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست می سی سی پی کے ایک چھوٹے سے شہر انڈیانولا میں ہفتے کی صبح ایک گیارہ سالہ سیاہ فام بچے نے والدین کے درمیان گھریلو جھگڑے کے بعد ماں کے کہنے پر پولیس کو فون کر کے مدد طلب کی ۔ پولیس نے موقع پر پہنچنے کے بعد بچے پر براہ راست فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔

بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ اس کا بچہ گھر سے باہر دروازے کی طرف جا رہا تھا کہ پولیس نے اس پر براہ راست فائرنگ کر دی ۔ بچے کی پسلیاں، پھیپھڑے اور جگر اس فائرنگ سے بری طرح متاثر ہوئے۔

اس سیاہ فام گھرانے کے وکیل کارلوس مور نے کہا ہے کہ بچہ موت کے منہ سے واپس آیا ہے اور اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

می سی سی پی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیق کر رہی ہے اور فائرنگ کے ذمہ دار پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں سیاہ فام افراد کے ساتھ نسلی امتیاز کے واقعات عام ہیں اور خاص طور پر امریکی پولیس سیاہ فاموں کے خلاف بربریت کا مظاہرہ کرنے کا ایک طویل ماضی رکھتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک امریکی پولیس اہلکار نے ایک بےگھر سیاہ فام کو میٹرو ٹرین میں دوسرے مسافروں کے سامنے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔

ٹیگس