سلامتی کونسل کا اجلاس امریکا کے لئے پڑا الٹا، امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیاں ساری دنیا میں دہشتگردانہ گروہوں کے سر اٹھانے کا باعث بن رہی ہیں
سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئےمطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرے۔
سحرنیوز/ایران: جارح امریکہ کی درخواست پر ایران کے بارے میں یو این سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ایران کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی اور صیہونی حکام نے کھل کر ایران کے اندرونی معاملات کے سلسلے میں مداخلت پسندانہ بیانات ہی نہیں دئے بلکہ تہران کو اپنے بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر دھمکیاں بھی دی ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے نائب سفیر غلام حسین درزی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اُس قوم کی نمائندگی میں بات کر رہا ہوں کہ جو سوگوار ہے، انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے اپنے اقتصادی مطالبات کے ساتھ پر امن اعتراضات شروع کئے مگر یہ اعتراضات منصوبہ بندی کے تحت مسلح عناصر کے ہاتھوں ہائی جیک کر لئے گئے اور پھر عوامی اعتراضات نے دہشتگردانہ بلووں کی شکل اختیار کر لی۔
غلام حسین درزی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیاں ساری دنیا میں عام شہریوں کے قتل عام، بڑے انسانی جرائم کے ارتکاب اور دہشتگردانہ گروہوں کے سر اٹھانے کا باعث بن رہی ہیں۔ اس اجلاس میں روس چین اور پاکستان کے نمائندوں نے ایران کے اندرونہ معاملات میں مداخلت نہ کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے ویسلے نبنزیا نے کہا کہ ہم واشنگٹن اور بعض دیگر دارالحکومتوں میں بیٹھے انتہاپسندوں سے، کہ جو عسکری مہم جوئی کو دہرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جون کے اُس المناک واقعے کو دوبارہ رونما نہ ہونے دیں کہ جس میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں ایک بڑا جوہری سانحہ ہوتے ہوتے بچا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے نائب سفیر نے زور دے کر کہا کہ روس اپنے دوست ایران کے خلاف ہر قسم کی بیرونی مداخلت، طاقت کے استعمال، دھمکی اور انتہاپسندی کی ترغیب کی سخت مذمت کرتا ہے۔ چین کے نمائندے سان لی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ایران کی تقدیر کا فیصلہ خود ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہو۔ چین کے نمائندے نے ایران کے سلسلے میں امریکی صدر کے موقف کو مغربی ایشیا میں جنگ کا خطرہ بڑھنے کا باعث قرار دیا اور کہا کہ ہر وہ اقدام جو بین الاقوامی ضابطوں کے خلاف ہو، وہ تحمل کے قابل نہیں۔ پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار نےکا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا زور زبردستی سے عالمی امن چین خطرے میں پڑ رہا ہے، اقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور خطے کی صورتحال پر تشویش ہے، مستحکم اور پر امن ایران پاکستان کے مفاد میں ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel