Mar ۰۵, ۲۰۲۴ ۱۴:۲۴ Asia/Tehran
  • کیوبا کے لئے 40 سال تک جاسوسی کرنے کا سابق امریکی سفیر کا اعتراف

بولیویا میں امریکہ کے سابق سفیر نے کیوبا کے لئے 40 سال تک جاسوسی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

سحرنیوز/ دنیا: مختلف میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق بولیویا میں امریکہ کے سفیر رہے مانوئل روچا نے، جو شروع میں خود کو بے قصور قرار بتاتے تھے، اب بالآخر کیوبا کے لئے 40 ساتل تک جاسوسی کرنے کا اعتراف کر ہی لیا۔ مانوئل روچا نے میامی کی ایک عدالت میں اپنے اوپر عائد ان الزامات کو تسلیم کرلیا کہ وہ کیوبا کے ایجنٹ کے طورپر کام کرتے تھے۔

73 سالہ وکٹرمانوئل روچا پر الزام لگایا گیا تھا کہ سنہ 1981 سے امریکی محکمہ خارجہ کے لیے کام کرتے ہوئے وہ کمیونسٹ ملک کیوبا کی حکومت کو امریکی حکومت کی خفیہ اطلاعات پہنچاتے رہے۔  

کیوبا کے لیے ایک سفارت کار کے اتنے عرصے تک جاسوسی کرتے رہنے کے انکشاف نے امریکہ کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ اسے کیوبا اور امریکہ کے درمیان جاسوسی کے سب سے بڑے کیسوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔

وکٹرمانوئل روچا پر غیر ملکی ایجنٹ کے طورپر کام کرکے غیر ملکی ایجنٹوں کے رجسٹریشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے، دستاویزات میں دھوکہ دھڑی کرنے اور امریکی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے غلط بیانی سے کام لینے کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کیوبا کے آنجہانی رہنما فیڈل کاسٹرو کو "کمانڈینٹ" اور امریکہ کو "دشمن" کہا تھا۔

وکٹرمانوئل روچا کو 12 اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران سزا سنائی جائے گی۔

مانوئل روچا کے کیوبا کا جاسوس ہونے کا شبہ اس وقت ہوا جب ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ نے روچا سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ کیوبا کی انٹیلی جنس سروس کا نمائندہ ہے۔ روچا نے بعد میں اس ایجنٹ سے کئی مرتبہ ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے کیوبا کی حکومت کے لیے خفیہ ایجنٹ کے طورپر کام کرنے کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔

عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق جب ایف بی آئی کے اہلکار نے ایک مرتبہ روچا سے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی کیوبا کے ساتھ ہیں تو امریکی سابق سفارت کار اپنی وفاداری پر سوال اٹھانے پر ناراض ہوگئے اور کہا "یہ میری مردانگی پر سوال" اٹھانے کے مترادف ہے۔

ٹیگس