نیپال: مسجد میں توڑ پھوڑ اور قرآن سوزی کے بعد بیرگنج شہر میں کرفیو نافذ
نیپال میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور مسجد میں توڑپھوڑ کے بعد بیرگنج شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق نیپال کے مدھیش صوبے کے جنوبی دھنوشا ضلع میں ہفتے کے روز ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نیپال کے مسلمانوں نے اتوار کو بیرگنج میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے۔ دھنوشا ضلع کی کملہ میونسپلٹی اور مدھیش صوبے کے دیگر حصوں میں بھی احتجاج دیکھنے کو ملا۔
اس کے بعد ممکنہ فرقہ وارانہ جھڑپوں کو روکنے کے لیے پرسا ضلع کی مقامی انتظامیہ نے پیر کے روز ہندوستان کی رکسول سرحد سے متصل بیرگنج شہر کے کچھ حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ پورا تنازعہ، بقول اس کے، ایک ٹک ٹاک ویڈیو سے شروع ہوا، جس میں دو مسلم نوجوان مبینہ طور پر ہندوؤں کے بارے میں نازیبا باتیں کرتے دکھائی دیئے۔ اس بات سے ناراض ہندوؤں کے ایک گروہ نے دھنوشا میں ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ اس درمیان قرآن مجید کے ایک نسخے کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ہندو برادری کی جانب سے کیے گئے اس عمل کے بعد اتوار سے مسلم برادری کے احتجاج میں مزید شدت آگئی۔ بعد ازاں پرسا ضلع انتظامیہ نے پیر کے روز بیرگنج شہر کے کچھ علاقوں میں کرفیو لگادیا اور ہر قسم کے میلے، عوامی اجتماع، جلوس اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ حکم پیر دوپہر ایک بجے سے نافذ کیا گیا اور اگلے احکامات تک جاری رہے گا۔
اس حکم میں کہا گیا ہے کہ ’’جو کوئی بھی اس حکم کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا، اسے تحویل میں لے لیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘‘