Jan ۰۸, ۲۰۲۶ ۱۴:۴۷ Asia/Tehran
  • امریکا: منیپولس سے نیویارک تک مظاہرے، خاتون کی ہلاکت نے پورے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا+ ویڈیو

امریکا میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے کہ جب امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک اہلکار نے منیپولس میں ایک خاتون کو ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد ملک بھر میں عوامی غصہ بھڑک اٹھا ہے۔

سحرنیوز/دنیا: تفصیلات کے مطابق، بدھ کے روز منیپولس سمیت امریکا کے مختلف بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور شمع بردار اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک اہلکار کے ذریعے قتل کی گئی خاتون کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اس غیر انسانی حرکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ICE کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ICE کے ایک آپریشن کے دوران رینی نیکول میکلن گُڈ نامی خاتون منیپولس میں ہلاک ہو گئی۔ یہ آپریشن موجودہ انتظامیہ کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حصہ تھا، جس میں مزید سختی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اس واقعے پر ICE کے اقدامات کا دفاع کیا، جس کے بعد عوامی ردِ عمل مزید شدت اختیار کر گیا۔ 

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

مظاہرین نے "Go arrest ICE" کے نعرے لگائے اور مقامی پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس اہلکار کو گرفتار کیا جائے جس نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ اہم اجتماع اس مقام کے قریب ہوا جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ یہ جگہ اس مقام سے صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے جہاں 2020 میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں جارج فلائیڈ کی ہلاکت ہوئی تھی، جس نے دنیا بھر میں نسلی امتیاز کے خلاف مظاہروں کو جنم دیا تھا۔

ٹیگس