امریکہ: منیاپولس میں سیکورٹی فورس کی فائرنگ سے امریکی شہری کے قتل کے بعد وسیع احتجاج، شہر میدان جنگ میں تبدیل
امریکی ریاست مینے سوٹا کے شہر منیاپولس میں سیکورٹی فورس کی فائرنگ سے ایک امریکی شہری کے قتل کے بعد ایک بار پھر عوامی احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔
سحرنیوز/دنیا: سی این این کی رپورٹ کے مطابق امیگریشن پولیس کے ہاتھوں مہاجروں کے خلاف پُرتشدد اور بے رحمانہ اقدامات کے بعد منیاپولس میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد امریکی وزیر جنگ نے منیاپولس میں فوج اتار دی اور شہر میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکورٹی فورس نے آنسو گیس اور صوتی بموں کا استعمال کیا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز ایک امریکی سیکورٹی افسر نے منیاپولس شہر میں مظاہروں کے دوران ایک امریکی شہری کو گولی مارکر قتل کردیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق منیاپولس میں مظاہروں کے دوران سرحدی سیکورٹی افسر کی گولی سے مرنے والا شخص امریکی شہری تھا اور اس کی عمر 37 سال بتائی گئی ہے۔ ہلاک شدہ امریکی شہری ایلکس پریٹی ایک ہسپتال میں نرس کے طور پر خدمات انجام دیتا تھا۔
امریکہ کی قومی سلامتی کے ادارے نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے شخص کے پاس سے نیم خودکار ہتھیار برآمد ہوا ہے۔
منیاپولس شہر کے بحرانی حالات کے انتظامی ادارے کی سربراہ ریچل سیر نے شہر کی صورت حال کو ہولناک قرار دیا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ادھر امریکی رکن کانگریس ایلیگزینڈریا کورٹیز نے کہا ہے کہ امریکی شہری اپنی حکومت کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں، امریکہ کا آئین تحس نحس ہو رہا ہے اور ہمارے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔