پزشکیان: دشمن کو ملک کی سرزمین کے ایک بالشت پر بھی قبضہ کی اجازت نہیں دیں گے
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن نے میری باتوں سے غلط مطلب نکا لا ہے، وہ ہمارے پڑوسیوں کو ہم سے لڑانا چاہتا ہے لیکن ہم اپنی ملک کی ایک بالشت زمین پر بھی قبضہ نہیں ہونے دیں گے
سحرنیوز/ایران: صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ملک کی علاج معالجے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ہم اپنے عوام کی قدردانی کرتے ہیں کہ میدان میں ان کی موجودگی اور جوش وجذبے نے دشمن کو مایوس کردیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دشمن نے میری باتوں کا غلط مطلب نکالا اور ہمارے پڑوسیوں کو ہم سے لڑانے کی کوشش کی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہماری طرف سے بارہا کہا جا چکا ہے کہ شہید رہبر معظم انقلاب کے فرمودات کے مطابق ہمارے پڑوسی ہمارے برادرہیں اور ان کے ساتھ ہمارے روابط بہت اچھے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جس ملک کے اندر سے بھی ہمارے خلاف جارحیت کی جائے ہم اس حملے کا جواب دینے پر مجبور ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری اس ملک سے لڑائی ہے یا ہم اس ملک کے عوام کو ناراض کرنا چاہتے ہیں۔
صدر ایران نے کہا کہ ہمارے ملک کے خلاف دباؤ جتنا شدید ہوگا، اس پر ہمارا جواب بھی اتنا ہی بڑھے گا۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیا نے کہا کہ ہم اپنے اعتقاد کی بنیاد پر کسی بھی بے گناہ انسان کے مارجانے سے بیزار ہیں۔
انھوں نے اسی کے ساتھ کہا کہ امریکا اور اسرائیل اتنے بچوں کا قتل عام کررہے ہیں کیا انہیں اس پر شرم آتی ہے؟ کیا وہ غزہ میں 50 ہزار بچوں کے قتل عام پر شرمندہ ہیں؟
صدر ایران نے کہا کہ ہم اپنے ملک پر حملہ کرنے والوں کے مقابلے میں پوری طاقت سے ڈٹے ہوئے ہیں، پوری قوت سے جواب دے رہے ہیں، ہماری مسلح افواج اور رضا کار فورس کے جوان ملک میں ہر جگہ موجود ہیں اور جی جان سے ملک کا دفاع کررہے ہیں۔ دشمنوں نے ہمارے لئے جوخواب دیکھا ہے وہ یقینا چکنا چور ہوگا۔ ایران غنڈہ گردی اور ظلم و جارحیت کےسامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔
انھوں نے کہا کہ ہم ان عزیز عوام سے جو علاقے میں کشیدگی سے پریشان ہیں، عذرخواہی کرتے ہیں، ہم علاقے کے ملکوں کے دوست ہیں، وہ ہمارے برادر ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر، کوشش کرنی چاہئے اور اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ امریکا اور اسرائیل علاقے کے ملکوں کو فریب دے کر انہیں ایک دوسرے کے مقابلے پر کھڑا کردیں۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر ہمارے درمیان اختلاف ہے تو یہ وقت انہیں بیان کرنے کا نہیں ہے،انہیں ہم خود اپنے اندر حل کریں ۔ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ یہ اختلافات اس بات کا باعث بنیں کہ دشمن ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی گھناؤنی نیت پوری کریں۔
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel