امریکہ؛مظاہرین کے قتل عام کے خلاف وسیع مظاہروں کا سلسلہ جاری
امریکہ کے مختلف شہروں میں ٹرمپ انتظامیہ کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مظاہرین کے قتل عام کے خلاف وسیع مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ادھر سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر امیگریشن افسران کی جانب سے منیا پولس میں مظاہرین پر فائرنگ کے بارے میں امریکی عوام سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: امریکہ کی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیا پولس کے عوام کے مظاہرے جو ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد شدت اختیار کرگئے تھے ہفتے اور اتوار تک جاری رہے اور آئندہ دنوں میں بھی ان کے جاری رہنے کی توقع ہے-
امریکی میڈیا نے امریکی ریاست نواڈا کے شہر لاس ویگاس میں بھی احتجاجی مظاہرے کی خبر دی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق لاس اینجلس کے عوام نے بھی امیگریشن ایجنٹوں کے تشدد کے خلاف مظاہرہ کیا، اسی طرح سینکڑوں افراد نے ریاست نبراسکا میں بھی مختلف شہروں میں مظاہرے کئے۔

مظاہرین نے ریاست نبراسکا کے علاقے لینکلن اور دیگر شہروں میں ایمیگریشن ایجنٹوں کے خلاف نعرے لگاتےہوئے ان کے شہر سے نکالے جانے کا مطالبہ کیا-
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
نبراسکا کی نرسوں کی ایسوسی ایشن نے بھی ایک بیان میں الیکس پریٹی کی موت کو انتہائی تشویشناک اور افسوسناک قرار دیا اور اس واقعے کی مکمل ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا-
تارکین وطن کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے جواب میں منیاپولس کے لوگوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کے علاوہ تارکین وطن کے تحفظ اور ان کی معیشت کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق منیاپولس کے لوگ اپنے ان تارکین وطن پڑوسی خاندانوں کو جوگرفتاری کے خوف سے اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے لئے خوراک کی ترسیل کا اہتمام کر رہے ہيں۔

دریں اثناء سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر امیگریشن افسران کی جانب سے منیا پولس میں مظاہرین پر فائرنگ کے بارے میں امریکی عوام سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔
انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں امریکہ کی سڑکوں پر پیش آنے والے "خوفناک مناظر" کی مذمت کی اور کہا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ امریکہ میں ایسے واقعات رونما ہوں گے۔
سابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ بچوں سمیت لوگوں کو، نقاب پوش وفاقی ایجنٹوں نے گھروں، کام کی جگہوں اور سڑکوں سے گرفتار کیا ہے۔ان مظاہرین اور شہریوں کو جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے مشاہدے کی غرض سے ڈاکومینٹری تیار کرنے کے لئے اپنا قانونی حق استعمال کیا ان کو بھی گرفتار کیا گیا، مارا پیٹا گیا اور آنسو گیس سے نشانہ بنایا گیا۔
کلنٹن نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایمیگریشن ایجنٹوں کے ہاتھوں امریکی نرس الیکس پریٹی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور ان کی روک تھام ہونی چاہیے تھی۔
کلنٹن نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس موقع کو امریکی جمہوریت کی بحالی اور اپنی بنیادی آزادیوں کے دفاع کے لیے استعمال کریں۔