رہبر انصاراللہ یمن: یمنی حکومت کے اراکین کی شہادت سے یمنیوں کا موقف تبدیل نہیں ہوگا
انصاراللہ یمن کے سربراہ نے صیہونی حکومت کے فضائی حملے میں یمن کے وزير اعظم اور ان کی کابینہ کے چند اراکین کی شہادت پر اپنے خطاب میں، شہدا کے لواحقین کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک اپنے موقف پر ثابت قدمی کے ساتھ باقی رہے گی۔
سحرنیوز/ایران: انصارللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے آج اتوار کی شام اپنے خطاب میں کہا کہ غاصب صیہونی حکومت نے اپنے حالیہ حملے میں حکومت کے مرکز پر حملہ کیا جس میں کابینہ کے کئی اراکین اور کارکن شہید ہوگئے۔
سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا ہے کہ اس حملے میں شہید ہونے والے شہدائے یمن ہیں اور یہ سبھی شہدا، غیر فوجی شعبوں میں فعال تھے۔
انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت نے اپنی وحشیانہ جارحیت میں صرف یمن کے ہی غیر فوجی حکام کو شہید نہیں کیا ہے بلکہ اس نے فلسطین، لبنان، شام ،عراق اور ایران میں بھی غیر فوجیوں اور نہتے بچوں اور عورتوں کو شہید کیا ہے۔
انصاراللہ یمن کے رہبر نے کہا کہ یمن کے سیویلین حکام پر اس کی تازہ مجرمانہ جارحیت، علاقے میں اسرائیلی حکومت کے طولانی مجرمانہ ریکارڈ میں ایک اور اضافہ ہے۔
سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا کہ دشمن صیہونی حکومت کسی بھی بین الاقوامی اور انسانی اصول کی پابند نہیں ہے اوراس کے سبھی اقدامات اس کی تشدد پسندانہ اور جارحانہ ماہیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
انصارللہ یمن کے رہبر نے کہا کہ صیہونی حکومت کی تازہ جارحیت نے یمنی عوام کے برحق موقف کی جو انسانی اور دینی اصولوں پر استوار ہیں اہمیت کو پہلے سے زیادہ آشکارا کردیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت پوری امت اسلامیہ کے لئے خطرہ ہے اور فلسطین اور غزہ میں اس کے جرائم سنجیدہ ردعمل کے متقاضی ہیں۔
سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا کہ ہمارے عوام نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے، وہ عزت، شرافت اور کرامت کا راستہ ہے، اس راہ میں ہم جو بھی قربانیاں پیش کرتے ہیں، ان پر فخر کرتے ہیں جبکہ بعض اقوام نے اسرائیلی جرائم پر خاموشی ااوراس کے سامنے جھک جانے کا انتخاب کیا ہے۔