ایران: فرانسیسی حکومت اپنے سفارتکاروں کی مداخلت کا جواب دے
ایران کی انٹیلیجنس کی وزارت نے فرانسیسی سفارتکاروں کی غیر قانونی مداخلتوں کی بابت پیرس حکومت کو سخت انتباہ دیا ہے
سحرنیوز/ایران: ایران کی انٹیلیجنس منسٹری کے شعبہ رابطہ عامہ نے سنیچر کو ایک بیان جاری کرکے بتایا ہے کہ حضرت امام زمانہ، عجل اللہ فرجہ الشریف کے گمنام سپاہیوں (محکمہ کے خفیہ اہل کاروں) کوغیر ملکی مداخلت کے ایک کیس میں، دو ملزمین کی گرفتاری کے تعلق سے،عدالتی حکم کی تعمیل کے دوران،جائے وقوعہ پر دو فرانسیسی سفارتکاروں کی موجود گی کا علم ہوا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ سفارت کاری کے عہدوپیمان کے منافی،غیر قانونی سرگرمیوں کے سلسلے میں مذکورہ سفارتکاروں کا ریکارڈ خراب تھا،اس لئے اس کی اطلاع وزارت خارجہ کو دی گئی جس کے بعد ڈپلومیٹک پولیس کی موجودگی میں، خلاف ورزی کے مرتکب ان دونوں سفارتکاروں کو، ایران میں متعین فرانسیسی سفیر کی تحویل میں دیا گیا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایسی حالت میں کہ انٹیلیجنس کی وزارت، ملزمین سے غیر ملکی عناصر کی ملاقات کی جگہ سے ملنے والی دستاویزات کی ابتدائی چھان بین کررہی تھی، فرانسیسیوں نے ابلاغیاتی شوروغل مچاکر کھلی خلاف ورزیوں کی پردہ پوشی کی کوشش کی۔ بتایا گیا ہے کہ جرم کی جائے وقوعہ سے ملنے والی دستاویزات کی ابتدائی چھان بین سے مجرمانہ منصوبےکی تفصیلات کی نشاندہی ہوتی ہے، اس لئے، فرانسیسیوں کی بہت زیادہ پریشانی اور جرم کے انکشاف پر، ان کے رونے دھونے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے، ملک کے اندر اور باہر موجود عناصر سے رابطہ قائم کرکے اور خفیہ گینگ تشکیل دے کر، بیرونی مداخلت اور ملک کی خود مختاری کے خلاف فرانس کے اقدام کے لئے زمین ہموار کئے جانے کے وسیع پروجکٹ اور منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے۔
ایران کی انٹیلیجنس کی وزارت کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ اس سلسلے میں ملنے والی معاہدے کی دستاویزات پر، ایران میں متعین فرانس کے سابق سفیر کے دستخط موجود ہیں، اس لئے فرانسیسی حکومت کو اپنے غیر قانونی اور مداخلت پسندانہ اقدامات کا جواب نیز اس منصوبے کے بارے ضروری وضاحت پیش کرنی چاہئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت اور وہ بھی جنگ کے حالات میں، ملک کے قوانین اور سفارتی اصول و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ثابت ہوگئی ہے، اس لئے ایران کی انٹیلیحنس کی وزارت خبردار کرتی ہے کہ مہمان سفارتکاروں کو غیر قانونی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تکرار کی صورت میں، ان کے ساتھ اسی طرح پیش آیا جائے گا جس طرح جارحین اور جارحیت میں سہولتیں فراہم کرنے والوں کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے۔
ایران کی انٹیلیجنس کی وزات نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ فرانسیسی حکومت نے ایسی حالت میں ایران کی قومی سلامتی کے خلاف اقدامات کو اپنے ایجنڈے ميں قرار دیا ہے کہ وہ خود، 2024 میں، اپنی سینیٹ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کئے جانے والے دعوؤں کی بنیاد پرغیرملکی مداخلت کی روک تھام کا قانون پاس کرچکی ہے اور غیر ملکی مداخلت پر پابندی سے اچھی طرح واقف ہے۔ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی حکومت کے لئے بہترہوگا کہ اپنی سیاسی مہارت اور شہریوں کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم، دنیا کے آزاد اور خود مختار ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر ضائع کرنے کے بجائے، اپنی اندرونی مشکلات اور مسائل حل کرنے اور فرانسیسی شہریوں کی سماجی ضرروتیں پوری کرنے پر خرچ کرے۔