آئی اے ای اے کی قرارداد کے سیاسی محرکات ہیں ، ایران
اسلامی جمہریہ ایران نے آئی اے ای اے کے بورڈ گورنرس کی قرار داد کو سیاسی محرکات کا حامل قرار دیا ہے۔
سحرنیوز/ایران: اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈکوارٹر ميں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب اور سفیر نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرس کی ایران مخالف قرار داد کو سیاسی محرکات کا حامل اور قانونی لحاظ سے بلاجواز قرار دیا ہے۔
انھوں نےامریکا اور تین یورپی ملکوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی مجوزہ قرار داد پاس ہونے کے بعد ائی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرس کے اجلاس سے خطاب کہا کہ قرار داد اعتماد، تعاون اور سفارتکاری کو سبوتاژ کرتی ہے۔
رضا نجفی نے کہا کہ یہ کوئی تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک سیاسی وسیلہ ہے جس میں قانونی معیاروں میں تحریف کی گئی ہے۔ یہ سیاسی دباؤ کا ایک حربہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس قرار داد میں کیا جانے والا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ ایران سیف گارڈ معاہدے کی پابندی نہیں کررہا ہے۔اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈکوارٹر میں ایران کے سفیر نے کہا کہ آئی اے ای اے کے منشور کی دفعہ 12 کی شق ج کے تحت، عدم پابندی ظاہر کرنے کے لئے، ایسے معتبر ثبوت وشواہد ضروری ہیں کہ جو یہ ثابت کریں کہ عدم پابندی کے دعوے کے صداقت پرکھی گئی ہے۔ لیکن ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ میں جس دستاویز کو بنیاد بنایا گیا ہے اس میں ہرگز یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ایجنسی نے ایٹمی مواد کے سلسلے میں انحراف کے دعوے کے صداقت پرکھی ہے۔انھوں نے ایران میں آئی اے ای اے کی وسیع تفتیش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے ایران میں حتی ایک گرام ایٹمی مواد کے انحراف کی رپورٹ نہیں دی ہے۔
رضا نجفی نے کہا کہ یہ دستاویز تیار کرنے والا خود جارح ہے جو جھوٹی ڈپلومیسی کی آڑ ميں زیادہ سے زیادہ دباؤ کے حربے سے کام لینے کی کوشش کررہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ قرار داد جارح کو اس کی جارحیت کا انعام اور جارحیت کا نشانہ بننے والے کو سزا دیتی ہے، یہ سیف گارڈ نہیں مکاری ہے۔اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈکوارٹر میں ایران کے سفیر نے قرارداد پیش کرنے والوں کے سفارتی راہ حل کی حمایت کے دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ سفارتکاری کی آڑ میں جبر ہے، حقیقی سفارتکاری کا لازمہ دو جانبہ احترام ہے، اس میں اجبار، دباؤ اور دھمکی نہیں ہوتی ۔انھوں نے کہا کہ اس غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار داد کی منظوری سے ایٹمی اسلحے کے عدم پھیلاؤ اور سیف گارڈ سسٹم میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ یہ قرار داد اعتماد، تعاون، سفارت کاری، اور آئی اے ای اے کی خودمختاری اور اعتبار کو ختم کردیتی ہے۔ رضا نجفی نے کہا کہ ایران نے نہ سیف گارڈ کی پابندی روکی ہے اور نہ ہی اس کو معطل کیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جارحیت کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان میں ہم اس پر عمل درآمد پر قادر نہيں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک حالات اجازت دیں گے ہم ایجنسی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے لیکن اپنے عوام، ایٹمی تنصیبات اور ایجنسی کے انسپکٹروں کی سلامتی خطرے میں نہيں ڈالیں گے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel