Feb ۱۹, ۲۰۲۱ ۱۵:۵۷ Asia/Tehran
  • یمن میں 4 لاکھ بچے بھوک مری کا شکار: اقوام متحدہ

انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے یمن میں انسانی صورت حال کو نہایت المناک قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس وقت سعودی جارحیت کے نتیجے یمن کے پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا چار لاکھ بچوں کو صحیح کھانا تک میسر نہیں ہے۔

مارک لوکاک نے کہا کہ یمن اس وقت گزشتہ کئی عشروں کے دوران بدترین انسانی المیے کی طرف تیزی بڑھ رہا ہے جبکہ یمن میں انسان دوستانہ کاروائیوں اور اس ملک کو قحط و بھوک مری سے بچانے کے لئے دو ہزار اکیس میں تقریبا چار ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔

خوراک کی عالمی تنظیم فاؤ، بچوں کے عالمی ادارے یونیسف اور اقوام متحدہ کے خوراک کے پروگرام نیز عالمی ادارہ صحت نے بھی حال ہی میں ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا چار لاکھ بچوں کو بھوک مری کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ان اداروں نے بغیر کسی رکاوٹ کے فوری طور سے یمنی عوام تک دسترسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یمن میں تقریبا ایک کروڑ دس لاکھ بچے موجود ہیں جنھیں انسان دوستانہ امداد کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکی حمایت کے سائے میں مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے اس غریب عرب ملک کے جاری محاصرے کی بنا پر اس ملک میں غذائی اشیا کے علاوہ ادویات کی بھی شدید قلت ہے اور اس وجہ سے بھی عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھئے:یمنی نونہالوں پر آل سعود قبیلے کا قہر، چار لاکھ بچے موت کے نشانے پر

ٹیگس