Apr ۲۰, ۲۰۲۲ ۱۸:۲۱ Asia/Tehran
  • مآرب میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب

یمنی فوج نے جارح اتحاد کے کئی دنوں سے جاری حملوں کے جواب میں شہر مآرب میں سعودی اتحاد کے زر خرید ایجنٹوں کے اڈوں پر بڑا حملہ کیا ہے۔

جارح سعودی اتحاد سے وابستہ میڈیا ذرائع نے یمنی فوج اور سعودی اتحاد کے زر خرید ایجنٹوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی خبر دی ہے۔عدن الغد ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق شہر مآرب میں آج صبح سے سعودی و اماراتی زر خرید ایجنٹوں کے اڈوں پر صنعا حکومت کے حملے میں شدت آگئی ہے اور گولہ باری کی شکل میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے قبل جنگ بندی کے دعوے کے باوجود جارح سعودی اتحاد کے مسلح اور جاسوس طیارے مآرب ، تعز، الجوف ، حجہ ، صعدہ ، عمران ، البیضاء، الضالع اور الحدیدہ کی فضاؤں پر جاسوسی پروازیں انجام دیتے رہے ہیں۔

منگل کو بھی جارح سعودی اتحاد کے ایجنٹوں نے دو کیٹوشا میزائلوں سے مشرقی صوبہ مآرب کے البلق علاقے میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے اڈوں پر حملے کئے اور مآرب اور لحج صوبوں میں شہریوں کے گھروں اور یمنی فوج و رضاکار فورس کے اڈوں پر فائرنگ کرکے اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کا سعودی اتحاد دعوی کر رہا ہے۔

اس درمیان یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سابق سربراہ صالح الصماد کی شہادت کی چوتھی برسی کا پروگرام منعقد ہوا جس میں اعلی حکام بھی موجود تھے۔ صالح الصماد انیس اپریل دو ہزار اٹھارہ کو شہر الحدیدہ پر جارح سعودی اتحاد کے فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔

فارس نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس پروگرام میں جس میں یمن کے وزراء، عسکری حکام اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی، یمنی وزیر اعظم عبدالعزیز بن حبتور نے خطاب کیا۔ یمنی وزیر ا‏عظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید صالح الصماد اپنے ہدف کے حصول میں پرعزم و ثابت قدم تھے اور وہ یمنی اداروں اور ان کے درمیان رابطوں کو محفوظ رکھنے کی بھی بھرپور کوشش کرتے تھے۔

بن حبتور نے علاقے کے حالات کے بارے میں کہا کہ فلسطین کے سلسلے میں صنعا کا موقف ثابت و پائیدار ہے اور آئندہ ہفتے صنعا میں اس سلسلے میں ایک خاص کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔

یمنی وزیر اعظم بن حبتور کے بیانات ایسے عالم میں سامنے آئے ہیں کہ بیت المقدس اور مسجدالاقصی پندرہ اپریل سے صیہونی فوجیوں اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔ ان جھڑپوں میں کم سے کم ایک سو ساٹھ فلسطینی زخمی اور چارسو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ٹیگس