May ۲۳, ۲۰۲۳ ۱۴:۵۸ Asia/Tehran
  • روہنگیا پناہ گزینوں کی ابتر صورتحال

ورلڈ فوڈ پروگرام نے بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے اپنی امداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ مالی بجٹ میں کمی کی بنا پر آئندہ تین ماہ کے دوران دوسری بار وہ جنوب مشرقی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں ابتر حالات میں زندگی بسر کر رہے دس لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی امداد کم کر رہا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق یکم جون سے ہر پناہ گزین کے لئے دس ڈالر ماہانہ امداد کم کر کے آٹھ ڈالر فی مہینہ کردی جائے گی ۔ اس سے قبل مارچ میں بھی اس پروگرام نے اس قسم کی امداد میں کمی کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں روہنگیا پناہ گزینوں کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی اور ان پناہ گزینوں کو صحیح کھانا تک میسر نہیں ہورہا ہے۔

جنوب مشرقی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں ابتر حالات میں زندگی بسر کر رہے دس لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی امداد میں کمی کا اعلان ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ ان کی حالت پہلے سے ہی اچھی نہیں ہے ۔ امدادی رقم کم ہونے سے یقینا ان کی حالت مزید ابتر ہوگی۔

روہنگیا مسلمانوں کے ایک رہنما خین ماؤنگ نے اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام کے اعلان کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ اقوام متحدہ کی جانب سے پناہ گزینوں کے لئے امداد میں کمی سے ان پناہ گزینوں کے درمیان بھوک مری پھیل سکتی ہے۔

انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کے کارکنوں کی رپورٹوں میں بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام کے اس فیصلے سے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ممکنہ طور پر بد امنی بڑھ سکتی ہے جس سے حالات مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ اور غیر ملکی سفارتکاروں نے حکومت بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا ہےکہ کیمپوں سے باہر پناہ گزینوں کے کام کاج کرنے پر عائد پابندی ختم کرے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے خاتمے سے مقامی لوگوں میں برہمی اور تشدد بھڑک اٹھنے جیسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

روہنگیا مسلمان میانمار کی ریاست راخین کے رہائشی ہیں جو کئی عشروں سے شہری حقوق اور سرکاری خدمات سے محروم ہیں اور ہمیشہ انھیں تشدد و امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

میانمار میں جب سے فوج نے اقتدار سنبھالا ہے روہنگیا مسلمانوں کی صورت حال مزید بدتر ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ان میں سے دس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے اور وہ وہاں کیمپوں میں ابتر حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ روہنگیا کےمسلمان پناہ گزینوں کے لئے جن کیمپوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ بنیادی انسانی سہولیات سے عاری ہیں اور ان کیمپوں میں زندگی بسر کرنے کا سارا دارومدار ورلڈ فوڈ پروگرام اور غیر سرکاری انسان دوستانہ تنظیموں کی امداد پر ہے۔

دو ہزار سترہ میں میانمار کی فوج اور انتہا پسندوں کے تشدد سے بچ کر دس لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان جنوب مشرقی بنگلہ دیش پہنچے اور وہاں کے کیمپوں میں ابتر حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

ٹیگس