Aug ۲۴, ۲۰۲۳ ۱۶:۲۶ Asia/Tehran
  • صیہونی حکام، فلسطینیوں کو دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں؟

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان نے حماس کے رہنماؤں کے قتل کی پالیسی کے حوالے سے صیہونی حکومت کے بعض اہلکاروں کی دھمکی کے جواب میں تاکید کی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی دھمکی، اس حکومت میں جاری بحران کی تصدیق ہے۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: تسنیم نیوز کے مطابق، اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ حماس کے قائدین اور غزہ اور فلسطین کے باہر مزاحمتی تحریکوں کے خلاف صیہونی دشمن کی دھمکیاں، اس بات کی نشاندہی ہے کہ صیہونی حکومت شدید بحران میں ہے۔  

حماس کے ترجمان نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آنے اور اس کے جغرافیائی دائرے کو مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصے تک توسیع کی وجہ سے یہ حکومت شدید بحران اور الجھن کا شکار ہوگئی ہے۔

حازم قاسم کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت کی دھمکیاں غاصب فوجیوں اور صیہونی آبادکاروں کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے مزاحمتی کارروائیوں کی صلاحیت کو ثابت کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے کے نوجوانوں اور مزاحمت کے مقابلے میں غاصب اسرائیلی فوج کی کمزوری پہلے سے زیادہ ثابت ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دھمکیاں بار بار دی جاتی ہیں اور فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں میں اضافے کے نتیجے میں صیہونی دشمن جب بھی کسی بحران میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ دھمکیاں دینا شروع کردیتا ہے۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ غاصب صیہونی حکومت نے عملی طور پر ہمارے عوام کے خلاف کھلی جنگ شروع کر رکھی ہے کیونکہ اس سال کے آغاز سے اب تک 226 افراد شہید ہو چکے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکومت فلسطینی عوام کے خلاف مزید جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔

ٹیگس