اسرائیل کی غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کے بعد سے 300 سے زائد فلسطینی بچے شہید؛ یونیسیف
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کے بعد سے کم از کم 322 بچے شہید ہو چکے ہیں۔
سحرنیوز/عالم اسلام: یونیسیف نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور غزہ پر شدید فضائی اور زمینی جارحیت دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے کم سے کم تین سو بائیس فلسطینی بچے شہید اور چھے سو سے زآئد زخمی ہوچکے ہیں۔ یونیسف نے کہا ہے کہ غزہ پر صیہونی حکومت کی فضائی اور زمینی حملوں کی دوسری لہر کے اعدادوشمار بتاتے ہیں گزشتہ دس دن کے دوران روزانہ سو سے زائد بچے شہید یا معذور ہو چکے ہیں۔
یونیسیف نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی دوسری لہر میں شہید اور زخمی ہونے والے زیادہ تر فلسطینی بچے بے گھر ہو گئے تھے اور انہوں نے عارضی خیموں یا تباہ شدہ گھروں میں پناہ لے رکھی تھی۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں ناصر ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ پر حملے میں بھی معصوم فلسطینی بچے شہید اور خمی ہوئے ہیں۔
یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی نے فلسطینی بچوں کی زندگی کسی حدتک محفوظ کردی تھی لیکن اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی ختم اور دوبارہ حملے شروع کئے جانے کے بعد اب ایک بار پھر فلسطینی بچے مہلک تشدد اور محرومی کے بھنور میں ڈوب گئے ہیں۔ یاد رہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے غزہ میں تقریبا دو مہینے تک جنگ بندی جاری رہنے کے بعد اٹھارہ مارچ سے غزہ پر دوبارہ بمباری اور زمینی حملے شروع کردیئے۔
غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ پر دوبارہ وحشیانہ صیہونی حملے شروع ہونے کے بعد ایک ہزار سے زائڈ نہتے فلسطینی شہید ہوچـکے ہیں۔