Nov ۳۰, ۲۰۲۵ ۱۴:۳۰ Asia/Tehran
  • اسرائیل کی بے شرمانہ ہٹ دھرمی کا سلسلہ جاری، یورپی یونین کی کمشنر کو غزہ پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا

غاصب اسرائیل نے اپنی بے شرمانہ ہٹ دھرمی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یورپی یونین کی کمشنر کو غزہ پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام: ارنا کی رپورٹ کے مطابق غاصب اسرائیلی حکومت نے یورپی یونین کی کمشنر کو غزہ پٹی میں داخل ہونے سے روک کر ایک بار پھر اپنی بے شرمانہ ہٹ دھرمی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اسرائیلی غاصب حکومت نے اپنے اس اقدام سے غزہ پٹی کے بحرانی علاقے تک بین الاقوامی اداروں کی رسائی کو محدود کرکے علاقے میں اپنے جرائم کو دنیا والوں کی نظروں سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

الجزیرہ کے حوالے سے آج ملنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے جمعہ کے روز یورپی یونین کی کمشنر برائے مساوات و بحران مینیجمنٹ حجہ لحبیب کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا۔ حجہ لحبیب نے، جو مصر کےدورے کے دوران رفح گزرگاہ کے ذریعہ غزہ میں داخل ہونا چاہتی تھیں، کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے سرحد عبور کرنے کی ان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق حجہ لحبیب نے رفح گزرگاہ پر ایک بیان میں صیہونی حکومت کے اس اقدام پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میں صورت حال کو قریب سے دیکھنا چاہتی تھی لیکن اسرائیل نے انہیں روک دیا۔" انہوں نے انسانی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے 347 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے جن میں 67 بچے شامل ہیں۔

یورپی یونین کی کمشنر نے غزہ کی صورت حال کو "امدادی کارکنان سمیت ہزاروں عام شہریوں کا قبرستان" قرار دیا اور کہا کہ تقریباً 600 امدادی کارکنان روئے زمین پر واقع ایک خطرناک ترین جگہ پر انسانوں کی جان بچانے کے دوران مارے گئے ہیں۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں ہزاروں خاندان ملبے کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں جن کی نہ کوئی سیکورٹی کا انتظام ہے اور نہ ہی ان کے پاس آنے والے موسم سرما سے بچنے کے وسائل ہیں۔

 انہوں نے ایک بار پھر جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

ٹیگس