پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی جانب سے حماس کو سالگرہ کی مبارکباد
پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے حماس کے قائدین اور کارکنان کو اس کے قیام کی اڑتیسویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حماس کااڑتالیس سالہ راستہ مزاحمت کے آپشن سے وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطین کے انفارمیشن سینٹر کےمطابق پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے ایک بیان میں انتفاضہ کے ساتھ تحریک حماس کی تشکیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اڑتیس سالہ راستہ آزادی اور واپسی کے واحد راستے کے طور پر مزاحمت کے نظریئے سے حماس کی گہری وابستگی کا زندہ ثبوت ہے۔
اس فلسطینی گروہ نے مزید کہا کہ مزاحمت اور قومی اتحاد ، نسل کشی کی جنگ میں غاصبوں کا مقابلہ کرنے کے اصول اور حفاظتی ڈھال ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین نے حماس کی قربانیوں اور ہزاروں شہداء، زخمیوں اور قیدیوں کی فداکاریوں کا ذکر کرتے ہوئے، حماس کے عظیم رہنماوں بالخصوص شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز رنتیسی، صلاح شحادہ ، اسماعیل ھنیہ، یحیی سنوار، محمد الضیف، صالح العاروری اور اس تحریک کے بہت سےدیگر رہنماؤں اور جیالوں کی قربانیوں کو سراہا-
اس فلسطینی گروپ نے اس موقع کو تجدید عہد کے لیے قومی موقع قرار دیتے ہوئے، قابضین کے منصوبوں کو ناکام بنانے اور تحریک حماس کے لیے زیادہ سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے کے مقصد سے ایک قومی حکمت عملی کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے پر زور دیا۔
تحریک حماس کے ایک رہنما اسامہ حمدان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحریک فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول تک قابضین کے خلاف مزاحمت کا راستہ جاری رکھے گی۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی تاریخ کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ حماس نے گزشتہ چار عشروں کے دوران مسئلہ فلسطین میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ قابضین کے خلاف فلسطینی عوام کی ایک صدی کی مزاحمت کا فطری تسلسل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غاصب عناصر مزاحمت کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ مزاحمت ایک قومی فیصلہ ہے نہ کہ صرف حماس تحریک کا فیصلہ ہے۔"
حماس کے اس عہدیدار نے صیہونی حکومت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی غاصب حکومت نے چار سو سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
انہوں نے شہید کمانڈر " رائد سعد" کی قربانی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی سرزمین اور وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
اسامہ حمدان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے، مزیدکہا کہ "ہم جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے بارے میں قطر، مصر اور ترکیہ سے مشاورت کر رہے ہیں، حالانکہ غاصب صیہونی حکومت اب بھی اس معاہدے کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی بنیاد، دسمبر انیس سو ستاسی میں شیخ احمد یاسین اور فلسطینی مجاہدین کے ایک گروپ نے پہلی فلسطینی انتفاضہ کے آغاز کے ساتھ رکھی تھی۔