نیتن یاہو کے مخالفین نئی کابینہ تشکیل دینے پر متفق
بنیامین نیتن یاہو کے مخالف دھڑوں دھاروں نے نئی کابینہ تشکیل دینے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لئے گادی آیزنکوت کی حمایت پر زور دیا ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: نیتن یاہو کی مخالف جماعتوں کے سربراہوں نے ایک نشست منعقد کر کے انہیں ہٹانے کے اپنے عزم کا اعلان کیا۔
صہیونی حکومت کے اپوزیشن دھڑے کے سربراہ یائیر لاپید نے اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کی نشست کے بعد کہا: ہمیں انتخابات کے نتائج کو منسوخ کرنے کی ایک انتہا پسند اور خطرناک کوشش کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام رپورٹس، خواہ شاباک کے سربراہ کی جانب سے ہوں یا انتخابی مرکزی کمیٹی کی جانب سے، انہیں فراہم کر دی گئی ہیں اور ان معلومات کی بنیاد پر انتخابات صحیح طریقے سے منعقد ہوئے ہیں اور اسے منسوخ کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔
لاپید نے یہ بتاتے ہوئے کہ فریق مقابل اپنی شکست قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، زور دیا کہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کو نئی کابینہ تشکیل دینے کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: گزشتہ دنوں کے واقعات ایک بار پھر یاد دلاتے ہیں کہ ہمیں نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کو وزیر اعظم کے دفتر سے ہٹا دینا چاہیے ، انہوں نے اسرائیل اور عوام کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔
در ایں اثنا آیزنکوت نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کی صورت میں بھی نیتن یاہو کی سربراہی والی کسی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے۔
نفتالی بینٹ نے بھی اعلان کیا کہ ان کی پارٹی اپنی پوری طاقت اور ارا کین کے تعاون سے آیزنکوت کی جلد از جلد کابینہ تشکیل دینے میں مدد کرے گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صہیونی حکومت کے الیکشن کمیشن نے جمعہ کی صبح کنیست کے چھبیسویں انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان کیا۔ اعلان کردہ اعدادوشمار کے مطابق، صہیونی حکومت کے موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی سربراہی والے اتحاد نے 53 نشستیں اور گادی آیزنکوت کی سربراہی والے حریف اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں۔ اسی طرح عرب جماعتوں کے اتحاد نے مجموعی طور پر پارلیمنٹ کی 19 نشستیں اپنے نام کیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel