Aug ۲۶, ۲۰۲۲ ۰۹:۰۸ Asia/Tehran
  • پاکستان؛ سیلاب سے 900 سے زائد جاں بحق، 3 کروڑ بے گھر

پاکستان میں وسیع پیمانے پر آیا ہوا سیلاب اب بھی بھیانک شکل اختیار کئے ہوئے ہے، گزشتہ روز مزید چونتیس افراد سیلاب کی زد میں آکر لقمہ اجل بن گئے جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 937 تک جا پہنچی ہے۔

حکومتِ پاکستان نے حالات کی ابتر صورتحال کے پیش نظر عالمی اداروں سے امداد کی اپیل کی تھی جس پر مذکورہ اداروں نے متاثرین کی مدد کے لیے پچاس کروڑ ڈالر سے زیادہ کی فوری امداد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے انسانی جانوں کے ضیاع اور ہونے والی تباہی پر سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ’یہ رقم سیلاب متاثرہ علاقوں میں صحت، غذائیت، غذائی تحفظ کے لیے استعمال کی جائے گی‘۔

اقوام متحدہ کی جانب سے 30 لاکھ ڈالر کی امداد کے بعد سیلاب سے نمٹنے کے لیے اس عالمی ادارے کی کُل امداد 70 لاکھ ڈالر ہوجائے گی۔

مسلسل سیلاب اور طوفانی بارشوں کے باعث بلوچستان کے کئی علاقے ڈوب چکے ہیں۔ پانی سڑکوں، دکانوں اور دفاتر میں بھی داخل ہوگیا۔

اطلاعات ہیں کہ بے قابو سیلابی ریلا چمن کے اطراف میں تباہی پھیلاتا ہوا آگے بڑھا اور پھر پاک افغان سرحدی دیہات، باب دوستی کے ساتھ کسٹم اور ایف آئی اے دفاتر میں داخل ہو گیا۔ بعض علاقوں میں سات فٹ کی اونچائی تک سیلابی ریلا آنے کی خبر ہے جس سے کئی مقامات پر مسافر پھنس کر رہ گئے۔

سندھ میں طوفانی بارشوں کے باعث ریلوے تنصیبات زیر آب آنے سے دسیوں ٹرینوں کو معطل کر دیا گیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سندھ بھر میں تیرہ افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ چالیس زخمی ہوئے۔ جون سے لے کر اب تک اس صوبے میں کم از کم تین سو افراد سیلاب کے باعث اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بھی بارشوں اور سیلاب کے باعث تباہی مچی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دریائے کنہار میں 8 افراد ڈوب گئے جن میں سے تین کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں جبکہ دیگرکی تلاش کا عمل جاری ہے۔

مری اور گلیات میں طوفانی بارش سے کئی مقامات پر درخت گرنے سے راستے بند ہوگئے۔ طوفانی بارش کے باعث علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے جس کے بعد سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دسیوں کلومیٹر سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جبکہ پندہ پل بھی تباہ ہو گئے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمینٹ اتھارٹی (ایں ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب اور بارشوں کے دوران زخمی افراد کی تعداد 1343 ہوگئی ہے۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ان بارشوں میں حیوانات کو بھی بڑا نقصا پہنچا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 85 ہزار 897 جانور مر گئے، حالیہ مون سون بارشوں کے دوران سندھ میں 85 ہزار 828 جانور مر چکے ہیں  جن کے بعد ملک بھر میں جانوروں کی اموات کی تعداد 7 لاکھ 93 ہزار 995 تک پہنچ گئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن کے مطابق اب تک تین کروڑ پاکستانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پورا جنوبی پاکستان پانی میں ڈوب گیا، اس وقت تمام دریا، ڈیمز، آبی ذخائر بھر چکے ہیں، اب پانی شہروں اور گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔

باوجود اس کے امدادی ٹیمیں اور آرمی کے جوان شب و روز لوگوں کو مدد پہنچانے اور انہیں نجات دلانے میں لگے ہوئے ہیں تاہم حالات اس قدر بے قابو ہیں کہ بعض متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان، ٹینٹ و راشن نہ ملنے اور داد رسی نہ ہونے پر متاثرین کے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ مظاہروں کے دوران مشکلات سے تنگ آئے متاثرین کے مابین جھگڑا ہونے کی بھی خبریں ہیں۔

حکومت پاکستان بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تعاون سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے 25000 روپے فی خاندان تقسیم کر رہی ہے۔

ٹیگس