Jan ۲۶, ۲۰۲۲ ۰۹:۱۶ Asia/Tehran
  • ایران کے آگے امریکا جھکا، براہ راست مذاکرات کی پیشکش کی

امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جوہری معاہدے میں واشنگٹن کی ناتوانی کی جانب اشارہ کئے بغیر ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہے۔

امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نڈ پرایس نے دعوی کیا ہے کہ مذاکرات شروع ہونے کے وقت سے ہی امریکہ نے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی پیشکش کی تھی اور ہمارا یہ کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے اور دوسرے مسائل پر براہ راست مذاکرات مفید رہیں گے۔

امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرنے اور اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کی جانب اشارہ کئے بغیر کہا کہ براہ راست مذاکرات اہم اور مفید ہونےکو ممکن بناتا ہے اور اس وقت ہمیں اس کی ضرورت ہے۔

ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے کل رات اپنے براہ راست انٹرویو میں امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پر کہا کہ ویانا میں جاری مذاکرات میں اگر مقابل فریق ایرانی عوام کے خلاف عائد ظالمانہ پابندیوں کو ہٹانے پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر مفاہمت کے لئے زمین ہموار ہو سکتی ہے۔

سید ابراہیم رئیسی نے براہ راست مذاکرات کے لئے امریکہ کی ممکنہ درخواست کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اس قسم کی درخواست مدتوں سے کی جا رہی ہے، لیکن اب تک امریکیوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ انکی حکومت کی پالیسی دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے پر استوار ہے اور جو بھی ملک ہمارے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے، ہم اُس کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن اگر کچھ ممالک ایران کے ساتھ مقابلہ آرائی کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر فطری طور پر ہم بھی ان کے مقابلے میں مزاحمت و استقامت کا مظاہرہ کریں گے۔

ٹیگس