Aug ۰۹, ۲۰۲۲ ۱۸:۳۱ Asia/Tehran
  • یوکرین کو مل رہی ہے اب تک کی سب سے بڑی امریکی فوجی امداد

پینٹاگون کے ترجمان نے اس خبر کی تائید کردی ہے کہ امریکہ یوکرین کے لئے ایک ارب ڈالر پر مشتمل ہتھیاروں کی نئی کھیپ بھیج رہا ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان ٹاڈ بریسیل نے پیر کو بتایا کہ یہ کھیپ اب تک کی سب سے بڑی اسلحہ جاتی امداد ہے جو دور مار میزائیلوں اور بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ہے۔ پینٹاگون سے وابستہ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس کھیپ میں ہیمارس میزائیل سسٹم، ناسامز نام کے زمین سے فضا کرنے والے میزائیل اور پچاس بکتربند امدادی گاڑیاں شامل ہوں گی۔

یاد رہے کہ یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد، یعنی گذشتہ چوبیس فروری سے اب تک امریکہ کی ایف کو آٹھ ارب اسّی کروڑ ڈالر کے اسلحے دے چکا ہے۔ اس سے قبل تین باخبر ذرائع نے نام ظاہر نہ ہونے کی شرط پر رائیٹرز خبررساں ادارے کو اس بارے میں معلومات فراہم کردی تھیں۔ یہ اسلحہ جاتی امداد ایسی حالت میں یوکرین کی حکومت کو فراہم کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر بائیڈن کو ملک کے اندر متعدد معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واشنگٹن ایک جانب ہتھیار فراہم کرکے جنگ کو بھڑکا رہا ہے تو دوسری جانب روس پر یکطرفہ طور پر جنگ ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

ادھر یوکرین کے صدر زیلینسکی نے یورپی ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے تمام شہریوں پر پابندی عائد کریں۔ ان کا دعوی ہے کہ روس، یوکرین کے متعدد علاقوں کو علیحدہ کرکے وہاں ریفرینڈم کروانا چاہتا ہے جسے روکنے کے لئے تمام روسی شہریوں پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے۔ زیلینسکی نے مطالبہ کیا کہ سب سے اہم اقدام سرحدوں کو بند کرنا ہوگا کیونکہ روس دوسرے ممالک پر قبضہ کر رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یوکرین کے صدر نے منگل کی صبح کو کہا کہ جب تک روس کے شہری اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کرتے انہیں الگ تھلگ رہنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید دعوی کیا ہے کہ اگر روس نے ان کے بقول یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں ریفرینڈم کرانا جاری رکھا تو یوکرین اور اس کے اتحادی ماسکو سے کسی بھی قسم کے مذاکرات انجام نہیں دیں گے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے بھی ماسکو پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یوکرین میں زبردستی سرزمینوں پر قبضہ کر رہا ہے۔

ٹیگس