Mar ۱۵, ۲۰۲۴ ۱۶:۲۰ Asia/Tehran
  • یورپی یونین نے روس یوکرین جنگ کے حوالے سے اہم پیشگوئی کردی

یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے جو کئی اجلاس کے انعقاد کےمقصد سے واشنگٹن میں ہیں، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہےکہ اس جنگ کے نتائج کا تعین اس موسم بہار اور موسم گرما میں کیا جائے گا۔

سحر نیوز/ دنیا: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یوکرین کے لئے نئی فوجی حمایتیں حاصل کرنے کا انتظار نہیں کرسکتے کہا کہ اس ملک میں جنگ کا نتیجہ موسم بہار یا موسم گرما میں معلوم ہوجائے گا ،اس لئے جلد از جلد یوکرین کو جن ہتھیاروں کی ضرورت ہے انہیں ارسال کیا جائے۔

جو‌زف بورل نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ میرا پیغام امریکہ کو یہ ہےکہ یوکرین جنگ کے لئے جو کچھ ضروری ہے اسے وہ جلد از جلد انجام دے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو بھی اپنی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کرنا چاہئے اور یوکرین کو درکار ہتھیاروں کی امداد کی فراہمی کو تیز کرنا چاہیے ۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے مزید کہا کہ آئئدہ کے چند مہینے ہمارے لئے فیصلہ کن ہوں گے اور یوکرین، امریکہ میں رواں سال میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کے واضح ہونے تک صبر نہیں کرسکتا۔

اسی اثنا میں جرمن چانسلر اولاف شولٹز نے یوکرین کے صدر کے ساتھ ٹیلی فونی گفتگو میں روس کے خلاف جنگ میں کی یف کی اسلحہ جاتی مدد کی حمایت کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا ہے-جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جرمن چانسلر نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں زلینسکی کو اطمینان دلایا ہےکہ یوکرین کے بین الاقوامی شراکت دار اسے روس کے خلا ف جنگ میں تنہا نہیں چھوڑيں گے-اسی سلسلے میں یوکرین کے صدر نے بھی سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا ہے کہ جرمن چانسلر شولٹز کے ساتھ دفاعی تعاون کے بارے میں گفتگو انجام پائی ہے اور تیسرے ممالک سے توپ خانے اور گولہ بارود کو تلاش کرنے اور اسے یوکرین کو فراہم کرنے کے لیے جمہوریہ چیک کی کوششوں میں شرکت کے لیے ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

یوکرین کے صدر نے مزید کہا کہ ہم نے جرمن چانسلر کو یوکرین کے فوجیوں کو درکار ترجیحی ہتھیاروں کے بارے میں آگاہ کیا کہ جن میں بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس ٹیلی فونی گفتگو میں، ہم نے سہ فریقی اجلاس کے انعقاد سے پہلے شولٹز کو اپنے موقف اور جنگی محاذوں کی صورت حال سے متعلق مطلوبہ معلومات سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی ضروری ہم آہنگی انجام پائی-

جرمن صدر شولٹز نے اب تک یوکرین کو ٹورس میزائل (Taurus missiles) دینے کے اس کے مطالبے کو پورا نہیں کیا ہے، اور یہ کہا ہے کہ ان میزائلوں کا استعمال جرمن فوج کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ یوکرین میں جنگ کو ہوا دے سکتا ہے اور اسے ایک عالمی جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے۔امریکہ اور مغربی ممالک اب تک ماسکو کے خلاف وسیع پابندیاں عائد کر چکے ہیں اور اربوں ڈالر کا اسلحہ اور فوجی ساز و سامان کی ایف بھیج چکے ہیں۔

ٹیگس