Apr ۳۰, ۲۰۲۴ ۱۲:۲۸ Asia/Tehran
  • نیوزی لینڈ کا بیان، فلسطین کے انسانی المیے کو روکنا ضروری ہے

نیوزی لینڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بغیر دو ریاستی حل ممکن نہیں ہے۔

سحر نیوز/ دنیا: نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ نے دو ریاستی حل کے حصول کے لیے صیہونی حکومت کے قبضے کو ختم کرنے کی ضرورت پر تاکید کی۔

فارس نیوز کے مطابق نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے دو ریاستی حل کے حصول کے لیے صیہونی حکومت کے قبضے کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹرز نے کہا کہ ان کا ملک امن کی بنیاد پر دو ریاستی حل اور غزہ پٹی میں انسانی تباہی کو روکنے کی حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قبضے کو ختم کیے بغیر فلسطین میں امن کا قیام غیر ممکن ہے۔

انہوں نے اس بارے میں کہا کہ موجودہ انسانی المیے کا خاتمہ اس وقت قبضے کو ختم کرنے سے بہتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معصوم فلسطینی متاثرین کے درمیان فرق کیا جانا چاہیے اور گزشتہ اکتوبر کی 7 تاریخ کو پیش آنے والے واقعے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ان کا ملک فلسطینی سرزمین پر صیہونی حکومت کے قبضے کے خاتمے کی امید رکھتا ہے، کہا کہ ان کا ملک کئی مہینوں سے اس مسئلے کا مطالبہ کر رہا ہے اور عالمی برادری کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے مجبور کرنا چاہیے تاکہ فریقین مستقبل میں امن کو قبول کریں۔

الجزیرہ کی ویب سائٹ کے مطابق پیٹرز نے فلسطین کی آزاد ریاست کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنے کے بارے میں کہا کہ فی الحال ایسی کوئی فلسطینی حکومت نہیں جسے تسلیم کیا جا سکے، اب سب سے اہم کام موجودہ انسانی تباہی کو روکنا اور امن کا حصول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر اور مصر جیسے ممالک کی طرف سے کی جانے والی کوششیں ایسے حل تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جو مستقبل میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

ٹیگس