گرین لینڈ کے امریکہ سے الحاق کے حوالے سے امریکہ اور یورپ کے اختلافات میں اضافہ
گرین لینڈ کے امریکہ سے الحاق کے حوالے سے امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ادھرگرین لینڈ پر قبضے کے ٹرمپ کے دعوؤں اور دھمکیوں کے خلاف ہزاروں ڈینمارکی باشندوں نے کوپن ہیگن میں ریلی نکالی۔
سحرنیوز/دنیا: ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے اعلان کیا کہ کوپن ہیگن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گرین لینڈ کے حصول کے منصوبے پر عمل کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے اور سفارتی راستے کو جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈنمارک کو اس معاملے پر یورپی یونین کی طرف سے وسیع حمایت حاصل ہے اور توقع ہے کہ برسلز واشنگٹن کے مؤقف کا باضابطہ جواب دے گا۔
امریکی سیاسی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ "امریکہ صرف ایک صدر نہیں ہے، اور وہاں طاقت کے توازن اور نگرانی کے طریقہ کار کا نظام موجود ہے"۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ادھرگرین لینڈ پر قبضے کے ٹرمپ کے دعوؤں اور دھمکیوں کے خلاف ہزاروں ڈینمارکی باشندوں نے کوپن ہیگن میں ریلی نکالی۔
مظاہرین نے امریکہ مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے اور امریکی حکام پر زور دے رہے تھے کہ وہ "گرین لینڈ پر قبضے کے ارادے سے دست بردار ہوجائيں ۔
در این اثنا کینیڈا کی حکومت کے باخبر ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک گرین لینڈ پر کشیدگی کے درمیان جزیرے پر فوجی دستے بھیجنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی گرین لینڈ کیس میں امریکی حکومت کے موقف پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔
دوسری جانب، امریکی وزیر خزانہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن کے نقطہ نظر سے، "یورپ کے لیے بہترین نتیجہ یہ ہے کہ گرین لینڈ امریکی کنٹرول میں ہو"۔
انہوں نے کچھ یورپی ممالک پر گرین لینڈ کے بارے میں ان کے موقف پر نئے محصولات کے نفاذ کو بھی "اسٹریٹجک فیصلہ" قرار دیا۔