ہندوستان: آلودہ پانی سے 21 لوگوں کی موت، کانگریس نے نکالا جسٹس مارچ
مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پینے کا پانی استعمال کرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جس کے بعد شہر کی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان: مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں آلودہ پانی پینے سے ہوئی 21 اموات کو لے کر اتوار کو مدھیہ پردیش کانگریس نے شہر میں جسٹس مارچ نکالا اور ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ اندور میونسپل کارپوریشن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہو اور لاپرواہی کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
یہ مارچ بڑے گنپتی چوک سے شروع ہو کر تاریخی راجواڑہ تک نکالا گیا۔ مارچ کی قیادت مہیلا کانگریس کی کارکنوں نے کی، جس میں صوبائی کانگریس صدر جیتو پٹواری، سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ، قائد حزب اختلاف اُمنگ سنگھار اور پارٹی کے کئی سینئر رہنما شریک ہوئے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
مارچ کے دوران دگ وجے سنگھ اور امنگ سنگھار ایک گاڑی کی چھت پر کھڑے ہو کر عوام سے خطاب کرتے نظر آئے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اندور میں میونسپل کارپوریشن سے لے کر پارلیمنٹ تک بی جے پی کا کنٹرول ہے، اس لیے ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور کانگریس گھر گھر جا کر عوام کو حقیقت سے آگاہ کرے گی۔