ہندوستان: مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت اور تشدد پر "اے پی سی آر" کی دل دہلا دینے والی رپورٹ
اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد پر اکسانے، معاشی بائیکاٹ اور منظم ہراسانی کے واقعات پر مبنی ایک چشم کشا اور تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بدھ کے روز دہلی میں ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے جاری کی گئی۔
سحرنیوز/ہندوستان: ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے ذریعے جاری ریلیز کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری کے لئے اے پی سی آر کی ٹیم نے ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا ، متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر شواہد جمع کیے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں خوف، عدم تحفظ اور عدم رواداری کی فضا مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دینے، روزگار اور تجارت کے بائیکاٹ اور نفرت پر مبنی مہم کے واقعات ایک تشویشناک معمول بنتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر 2021 میں ہری دوار میں منعقد ہونے والی نام نہاد “دھرم سنسد” اس انتہا پسندانہ رجحان کی ایک واضح مثال ہے، جہاں متعدد مقررین نے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، تشدد پر اکسانے والے بیانات دیے اور آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی کی۔ ان تقاریر میں مسلمانوں کے قتل کی ترغیب، ہندو راشٹر کے قیام کے مطالبات اور اسلام و عیسائیت کے خلاف شدید نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی، جس کی ملک بھر میں سیول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور جمہوری حلقوں نے سخت مذمت کی۔

اے پی سی آر نے رپورٹ میں اس امر پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے اجتماعات میں شریک بعض مذہبی و سیاسی شخصیات نے قانون کی عملداری کو کھلے عام چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں سماج میں نفرت کے بیج بوئے گئے اور مسلمانوں کے خلاف ہراسانی، تشدد اور معاشی دباؤ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف آئینِ ہند کی روح اور اس کے سیکولر کردار کے منافی ہے بلکہ ریاست کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داریوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر اور سینئر سابق آئی۔ اے۔ ایس افسر نجیب جنگ نے کہا کہ ’’یہ رپورٹ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک سنگین وارننگ ہے۔ اگر نفرت اور تشدد کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو اس کے نتائج جمہوریت، آئین اور سماجی یکجہتی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوں گے۔ ریاستی اداروں کو فوری طور پر غیر جانبدارانہ کارروائی کرنی ہوگی۔‘‘ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ’’رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق آئینِ ہند کی کھلی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والے عناصر کے خلاف کارروائی نہ ہونا قانون کی بالادستی کو کمزور کرتا ہے۔ انصاف اور برابری کے اصولوں کا نفاذ ہی اس بحران کا واحد حل ہے۔‘‘