سپاہ پاسداران انقلاب:دشمن کی شکست کی ایک بنیادی وجہ انٹیلیجنس کے شعبے میں اس کی ناکامی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے جنگ میں دشمن کی شکست کی ایک بنیادی وجہ انٹیلیجنس کے شعبے میں اس کی ناکامی قرار دی ہے۔
سحرنیوز/ایران:سپاہ پاسداران کے ترجمان جنرل علی محمد نائینی نے مشہد مقدس میں،عوامی رضا کار فورس بسیج کے ریفریشر ورکشاپ سے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف غاصب صیہونی حکومت اور امریکا کی بارہ روزہ جنگ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انھوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ میں آسانی سے فتح حاصل نہیں ہوتی، ہر جنگ کے مختلف، تکنیکی، سماجی، سیاسی، فوجی، تزویری اور اسٹریٹیجک پہلو ہوتے ہیں اور فتح و شکست کا معیار سیاسی اہداف کا حصول ہوتا ہے۔
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ نئی جنگوں میں، دشمن پر اپنا ارادہ مسلط کردینا کامیابی کا معیار ہوتا ہے۔
جنرل محمد علی نائینی نے کہا کہ پابندیوں اور دباؤ کے باوجود ملک کی معیشت بحران سے دوچار نہیں ہوئی، قیمتیں مستحکم رہیں، روز مرہ کی زندگی میں کوئی خلل نہیں پیدا ہوا، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور جواب دینے کی صلاحیت وتوانائی محفوظ رہی ۔
انھوں نے کہا کہ حتی سینیئر فوجی کمانڈروں کی شہادت کے بعد بھی فوجی کارروائیاں بغیر کسی وقفے کے فوجی اور سفارتی کارروائياں جاری رہیں اور دنیا کے ایک سو بیس سے زائد ملکوں اور بین الاقوامی اداروں نے غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کی۔
جنرل نائینی نے کامیابی کے تین بنیادی عوامل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ انقلاب میں، واقعہ طبس سے لے کر فتح خرمشہر تک جو بات بارہا دوہرائی گئی اس بار بھی رونما ہوئی۔
اسی طرح رہبر انقلاب اسلامی نے ابتدائی شاک کو کنٹرول کیا اور ٹھوس جوابی کارروائی کا فرمان صادر کرتے ہوئے ملی جذبے کی تقویت کی اور طاقت کا توازن تبدیل کردیا اور تیسرا عامل جو دشمن کے اہداف پورے ہونے میں رکاوٹ بنا، ملت ایران کا اعلی درجے کا تحمل، وفاداری اور استقامت تھی۔
انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دشمن کے مقابلے میں سپاہ کے اہداف مکمل طور پر پورے ہوئے، کہا کہ، صیہونی حکومت کے اندر انجام دی جانے والی انٹیلیجنس کی کارروائیوں سے بہت سے ابہامات دور ہوئے اور سپاہ کے انٹیلیجنس اطلاعات کے ذخیرے کی تکمیل ہوئی۔
جنرل نائینی نے کہا کہ انٹیلیجنس اطلاعات کا یہ ذخیرہ میزائل اور ڈرون حملوں میں بہت موثر واقع ہوا اور اس جنگ میں دشمن کی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ اس کی انٹیلیجنس شکست تھی۔