زرمبادہ میں عارضی اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونے والوں کا پرامن احتجاج ان کا حق ہے: ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ نے کہاہے کہ ایران میں، زرمبادلہ میں عارضی اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونے والوں کا پرامن احتجاج ان کا حق ہے۔
سحرنیوز/ایران: امریکی صدر کے مداخلت پسندانہ بیانات کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران میں وہ لوگ جو زر مبادلہ میں عارضی اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوئے ہیں وہ پچھلے کچھ دن سے پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہم نے پرتشدد فسادات کے واقعات بھی دیکھے ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنوں پر حملے اور پولیس افسران پر دستی بموں سے حملہ بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ، جنہوں نے حال ہی میں امریکہ کی سرحدوں میں نیشنل گارڈز تعینات کئے ہیں، وہ بہتر جانتے ہیں کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملے برداشت نہیں کیے جاتے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ اسی لیے صدر ٹرمپ کا آج کا پیغام، جو غالباً ان لوگوں سے متاثر ہے جو سفارت کاری سے ڈرتے ہیں یا غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ سفارت کاری غیر ضروری ہے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی عظیم قوم ماضی کی طرح اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی مداخلت کو سختی سے مسترد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج چوکس ہیں اور بخوبی جانتی ہیں کہ ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں کہاں کو نشانہ بنانا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیرسعید ایروانی نے بھی امریکی صدر کے بیانات کو ایران کے خلاف کھلی دھمکی قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل سے واضح اور مؤثر ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی حمایت میں ایک مداخلت پسندانہ بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں قتل کیا گیا تو امریکہ فورا ان کی حمایت کے لیے مداخلت کرے گا۔
امریکہ اکثر اپنے سیاسی مفادات کے لیے بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ کے بیانات میں استعمال ہونے والے الفاظ جیسے "اقدامات کے لئے تیاری" اور "حتمی ردعمل" دراصل ایک خودمختار ملک کو دھمکانے کے مترادف ہیں اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہیں، جس میں کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی ہے۔
دوسری جانب سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیئو نے، جو کہ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں وزیرِ خارجہ رہ چکے ہیں، باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ ایران میں بدامنی میں موساد کے ایجنٹ ملوث ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ بدامنی کے پیچھے امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنٹ ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ خود امریکیوں اور اسرائیلیوں نے سرکاری طور پر اس مسئلے کا اعتراف کیا ہے۔