ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات صرف ایٹمی امور تک محدود رہے : سید عباس عراقچی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزيرخارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات صرف ایٹمی امور تک محدود رہے اور یہ مذاکرات اگر آئندہ جاری رہے تو بھی اسی روش پر انجام پائيں گے ۔ایران کے وزيرخارجہ سید عباس عراقچی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ فوجی صف بندی ہمارے علاقے کو خوف زدہ نہيں کرسکتی ، ہم سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں اور جنگ بھی کر سکتے ہيں۔
سحرنیوز/ایران: وزيرخارجہ سید عباس عراقچی نے آج ایران کی خارجہ پالیسی اور خارجہ تعلقات کی قومی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں یہ کہنا چاہتے ہيں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے پرامن ایٹمی پروگرام اور اور یورے نیم کی افزودگی کے لئے بہت قیمت چکائي ہے اور یہ قیمت ملک کی ضرورت کے مطابق رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یورے نیم کی افزودگی اور ایٹمی پروگرام ملک کی ضرورت شمار ہوتا ہے اور زراعت ، طب و صحت سمیت متعدد میدانوں میں اس کا استمعال و ضرورت ہے ۔ یورے نییم کی افزودگی، مستقبل میں ایٹمی ایندھن اور ایٹمی بجلی گھر کے لئے ضروری ہے اور بارہا ان چیزوں کو بیان کیا جا چکا ہے ۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم خودمختاری اور عزت پسندی کے زاويے سے بھی اسے دیکھتے ہيں ۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اس سطح و مقدار تک یورے نیم کی افزودگی پر ہم نے اسی لئے اصرار کیا اور کر رہے ہيں اور کسی بھی حوالے سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہيں ہیں چاہے ہم پر جنگ ہی کیوں نہ مسلط کردی جائے کیونکہ کسی کو ہم سے یہ کہنے کا حق نہيں ہے کہ ہمارے پاس کیا ہونا چاہئے اور کیا نہيں ہونا چاہئے ۔
ایرانی وزيرخارجہ نے کہا کہ یورے نیم کی افزودگی ہمارا حق ہے اور قانون کے مطابق اس کا تعلق خود ہم سے ہے کہ اس حق پر عمل کریں یا نہيں کریں ۔ کسی کو یہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ ہم سے کہے کہ ہمیں ایٹمی پروگرام نہيں رکھنا چاہئے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزيرخارجہ سید عباس عراقچی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آج مخالف فریق کی فوجی صف بندی ہمارے علاقے کو خوف زدہ نہيں کر پا رہی ہے کہا کہ ہم سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں اور جنگ بھی کر سکتے ہيں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ طلب ہیں اور جنگ کرنا چاہتے ہيں ۔ بے شک ہم جنگ کر سکتے ہيں اور جنگ کے لئے تیار بھی ہیں تاکہ کوئي ہم سے لڑنے کی ہمت نہ کرے ۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم سفارتکاری پر یقین رکھتے ہيں کیونکہ ہمارے پاس منطق اور کہنے کے لئے بہت کچھ ہے اگر سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا جائے گا تو ہم بھی اسی راستے پر چلیں گے ۔ اگر ایران کے عوام کے ساتھ احترام سے بات کی جائے گی تو ہم بھی احترام سے جواب دیں گے اور یہ وہ چیز ہے جو ہم نے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ سے سیکھی ہے اور ان کے بعد رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بھی اسکی طرف رہنمائی فرمائی ہے ۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اس وقت ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول عزت ، حکمت اور مصلحت ہے اور عزت کا مطلب خود مختاری کا تحفظ ، تسلط کا انکار اور ملک کی حیثیت و وقار کا دفاع ہے ۔